منتخب غزلیں
زبیر علی تابش کا یومِ پیدائش August 27, 1987 زبیر …

زبیر علی تابش کا یومِ پیدائش
August 27, 1987
زبیر علی تابش کے اشعار
….
آج تو دل کے درد پر ہنس کر
درد کا دل دکھا دیا میں نے
…..
تمہارا صرف ہواؤں پہ شک گیا ہوگا
چراغ خود بھی تو جل جل کے تھک گیا ہوگا
….
کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے
میں بس رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں
….
اس کے خط رات بھر یوں پڑھتا ہوں
جیسے کل امتحان ہو میرا
….
اونچے نیچے گھر تھے بستی میں بہت
زلزلے نے سب برابر کر دیئے
….
وہ جس نے آنکھ عطا کی ہے دیکھنے کے لیے
اسی کو چھوڑ کے سب کچھ دکھائی دیتا ہے
….
اپنا کنگن سمجھ رہے ہو کیا
اور کتنا گھماؤ گے مجھ کو
….
اب تلک اس کو دھیان ہو میرا
کیا پتہ یہ گمان ہو میرا
….
کسی بھوکے سے مت پوچھو محبت کس کو کہتے ہیں
کہ تم آنچل بچھاؤ گے وہ دسترخوان سمجھے گا
….
آئنہ کب بناؤ گے مجھ کو
مجھ سے کس دن ملاؤ گے مجھ کو
…..
بس میں مایوس ہونے والا تھا
اور مولا نے تجھ کو بھیج دیا
….
پہیلی زندگی کی کب تو اے نادان سمجھے گا
بہت دشواریاں ہوں گی اگر آسان سمجھے گا
….
ہمارا دل تو ہمیشہ سے اک جگہ پر ہے
تمہارا درد ہی رستہ بھٹک گیا ہوگا
….
اس در کا ہو یا اس در کا ہر پتھر پتھر ہے لیکن
کچھ نے میرا سر پھوڑا ہیں کچھ پر میں نے سر پھوڑا ہے
…..
شاید قضا نے مجھ کو خزانہ بنا دیا
ایسا نہیں تو کیوں مجھے دفنا رہے ہیں لوگ
….
بچھڑ کر بھی ہوں زندہ رہنے والا
تو ہوتا کون ہے یہ کہنے والا
………………….
August 27, 1987
زبیر علی تابش کے اشعار
….
آج تو دل کے درد پر ہنس کر
درد کا دل دکھا دیا میں نے
…..
تمہارا صرف ہواؤں پہ شک گیا ہوگا
چراغ خود بھی تو جل جل کے تھک گیا ہوگا
….
کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے
میں بس رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں
….
اس کے خط رات بھر یوں پڑھتا ہوں
جیسے کل امتحان ہو میرا
….
اونچے نیچے گھر تھے بستی میں بہت
زلزلے نے سب برابر کر دیئے
….
وہ جس نے آنکھ عطا کی ہے دیکھنے کے لیے
اسی کو چھوڑ کے سب کچھ دکھائی دیتا ہے
….
اپنا کنگن سمجھ رہے ہو کیا
اور کتنا گھماؤ گے مجھ کو
….
اب تلک اس کو دھیان ہو میرا
کیا پتہ یہ گمان ہو میرا
….
کسی بھوکے سے مت پوچھو محبت کس کو کہتے ہیں
کہ تم آنچل بچھاؤ گے وہ دسترخوان سمجھے گا
….
آئنہ کب بناؤ گے مجھ کو
مجھ سے کس دن ملاؤ گے مجھ کو
…..
بس میں مایوس ہونے والا تھا
اور مولا نے تجھ کو بھیج دیا
….
پہیلی زندگی کی کب تو اے نادان سمجھے گا
بہت دشواریاں ہوں گی اگر آسان سمجھے گا
….
ہمارا دل تو ہمیشہ سے اک جگہ پر ہے
تمہارا درد ہی رستہ بھٹک گیا ہوگا
….
اس در کا ہو یا اس در کا ہر پتھر پتھر ہے لیکن
کچھ نے میرا سر پھوڑا ہیں کچھ پر میں نے سر پھوڑا ہے
…..
شاید قضا نے مجھ کو خزانہ بنا دیا
ایسا نہیں تو کیوں مجھے دفنا رہے ہیں لوگ
….
بچھڑ کر بھی ہوں زندہ رہنے والا
تو ہوتا کون ہے یہ کہنے والا
………………….


