#hamidnaved حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط …

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 24
یزدگرد دوسرے تیسرے دن یہودی کو بلا کر پوچھتا تھا کہ اس کا جادو کہاں تک پہنچا ہے؟
راہب کے پاس ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ وہ وقت ضائع نہیں کر رہا اور یہ بھی کہ اتنا زبردست جادو اتنی جلدی تیار نہیں ہوا کرتا۔ یزدگرد کو اپنی فوج کی پسپائی اور مسلمانوں کی پیش قدمی کی جو خبریں روز بروز مل رہی تھیں، وہ اس کے پاؤں تلے سے زمین نکال رہی تھیں۔ پورا فارس اس کی مٹھی سے نکل رہا تھا اور اس قدر مایوس اور پریشان ہو گیا کہ ایک روز اس نے یہودی راہب کو بلایا۔
’’اگر آپ سے کچھ نہیں ہو سکتا تو مجھے بتا دیں۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ میں آپ کو کوئی سزا نہیں دوں گا۔‘‘
’’اپنی عبادت گاہ میں میرا جو کام تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔‘‘ یہودی راہب نے کہا۔’’ میں نے دریا کے کنارے ایک جھونپڑا تیار کروا لیا ہے ۔لڑکی کو وہاں لے جا رہا ہوں۔ دو الو وہاں پہنچا دیئے گئے ہیں۔ چار پانچ دنوں بعد مجھے ایک نوزائیدہ بچے کی ضرورت ہو گی۔‘‘
’’کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کہاں تک آگئے ہیں؟‘‘یزد گرد نے کہا۔’’ بُرس پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔ کوثیٰ میں شہریار مارا گیا ہے اور یہ شہر بھی مسلمانوں کے پاس چلا گیا ہے ۔سورا اور دیرا پر بھی مسلمان قابض ہو گئے ہیں اور اب انہوں نے بُہر شیر کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اِدھر آپ ہیں کہ دن پر دن گزارتے چلے جارہے ہیں ۔کیا آپ اُس وقت کچھ کریں گے جب مسلمان مدائن میں داخل ہو جائیں گے؟‘‘
’’شہنشاہِ فارس!‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔’’ آپ میری کچھ باتیں بھول گئے ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ آپ کسی طریقے سے اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کریں ، خواہ آپ کو خود آگے جانا پڑے۔ مجھے یہ توقع تھی کہ ہماری فوج کہیں نہ کہیں مسلمانوں کو روک لے گی اور کچھ دن روکے رکھے گی اور مسلمانوں کی پیش قدمی تیز نہیں ہو گی۔ میں اتنے وقت میں اپنا کام مکمل کر لوں گا لیکن ہماری فوج نے کہیں بھی قدم جمانے کی کوشش نہیں کی ……
جادو اگر ایک انسان پر کرنا ہو تو ذراسی دیر میں ہو جاتا ہے لیکن ایک لشکر کو جادو کے زور پر روک لینے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اس جادو کی تیاری میں اپنی جان کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اگر میں آپ کو خوش کرنے کیلئے جلد بازی کروں تو جادو کمزور ہونے کی وجہ سے بیکار ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جادو اُلٹا اثر کر جائے۔ اس صورت میں آپ کی تباہی کا عمل اور تیز ہو جائے گا۔ آپ یہ کام کریں کہ بُہر شیر میں کمک بھیجیں تاکہ محاصرہ لمبا ہو جائے۔ اپنی فوج کو پیغام بھیجیں کہ غیب سے مدد آرہی ہے ۔جم کر لڑیں۔‘‘
یہ تھا وہ جادو جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے اور جسے ﷲ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتوں ہاروت و ماروت سے منسوب کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے شیطان کا کام کہا ہے۔ یہودی جسے ﷲ تعالیٰ نے دھتکاری ہوئی قوم کہا تھا، اس جادو کے پیچھے پڑ گئے ۔یہودی کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر اس کام کو پسند کرتا ہے جس کام میں شیطان کا عمل دخل ہو۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہودی مسلمانوں کے جانی دشمن تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جادو کا استعمال بھی کیا رسول کریمﷺ پر انہوں نے جادو بھی چلایا اور دھوکے سے زہر بھی دیا۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں مسلمانوں کو کامیاب ہوتے دیکھا وہاں زمین دوز کارروائیوں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر طرح سے مدد دینے کی اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
وہ آج تک ان کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بوڑھا یہودی راہب یزدگرد کو جادو کا سہارا دے رہا تھا۔ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ وہ واقعی جادو کر رہا تھا یا جادو چلانا بھی جانتا تھا یا نہیں۔ لیکن وہ یزدگرد کا حوصلہ مضبوط کررہا تھا اور اُسے اُکسا رہا تھا کہ وہ اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کرے۔ اس نے یزدگرد پر اپنا اثر ڈال لیا تھا۔ اثر بھی اتنا جیسے اسے ہپناٹائز کرلیا ہو۔ ٭
اُسی رات یہ بوڑھا یہودی اس لڑکی کو شہر سے باہر دریا کے کنارے اس علاقے میں لے گیا جس میں سیلابی پانی کے تالاب بنے رہتے تھے اور جہاں درختوں اور سرکنڈوں کا گھنا جنگل تھا ۔وہاں اس نے ایک کُٹیا بنا لی تھی، جس میں زیادہ تر لکڑی استعمال کی گئی تھی۔ اس کا ایک جواں سال چیلا بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہاں انہوں نے اپنے لیے اور لڑکی کیلئے کھانا پکانے کا اور بستروں کا بھی انتظام کرلیا تھا۔ ان کا زیادہ تر کام رات کو کٹیا کے باہر ہوتا تھا۔ راہب نے دو اُلّو بھی پکڑ رکھے تھے۔ انہیں کوئی ایسی غذا کھلاتا تھا کہ وہ اُڑ کر کہیں جاتے ہی نہیں تھے۔ کُٹیا میں ہر وقت لوبان کی دھونی جلتی رہتی تھی۔ رات کو راہب لڑکی کو سیاہ چغہ پہنا کر دو زانو بٹھا لیتا تھا۔ ایک اُلّو اس کے دائیں کندھے پر اور دوسرا بائیں کندھے پر بٹھا دیتا تھا۔ کُٹیا میں ایک فانوس جلتا رہتا تھا۔ اس کی روشنی تھی جو لوگوں کو دور سے نظر آتی تھی اور اسے وہ پراسرار روشنی سمجھتے تھے۔
یہ تو کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہاں کوئی انسان آباد ہے۔ کچھ دنوں بعد لڑکی نے بوڑھے راہب کے اشاروں پر بولنا شروع کر دیا۔ راہب اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی ۔اس کا انداز اور لہجہ ایسا ہوتا تھا جو لڑکی کا قدرتی انداز نہیں تھا۔ صاف پتا چلتا تھا کہ وہ کسی اورکے اثر کے تحت بول رہی ہے۔
’’نہیں……ابھی نہیں، ابھی کام نہیں ہوا ۔ابھی ہو گا بھی نہیں۔‘‘ یہ لڑکی کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تھے۔ تین چار راتیں اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے رہے ۔ان سے پتا چلتا ہے کہ راہب کے جادو کا اثر کم از کم اس لڑکی پر ہو گیا تھا ۔وہ لڑکی سے آنے والے وقت کے متعلق معلوم کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے جادو میں اثر کس حد تک پیدا ہوا ہے۔
یہ بھی جادو کا اثر تھا کہ جب لڑکی بول چکتی تو دونوں اُلّو اپنی مخصوص آواز میں بولتے تھے ،جیسے ویرانے میں اُلّو بولا کرتے ہیں۔ ابھی نوزائیدہ بچے کو نہیں لایا گیا تھا۔ شاید یہودی کے عمل کا وہ مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ یزد گرد نے اپنے متعدد قاصد اپنی فوج کی طرف بھیج دیئے۔ انہیں پیغام یہ دیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں، اکٹھے ہوجائیں۔ غیب سے مدد آرہی ہے۔ جم کر مقابلہ کریں اور اب مسلمانوں کی پیش قدمی پسپائی میں بدلنے ہی والی ہے۔
بُہر شیر مدائن سے کچھ دور نہیں تھا۔ درمیان میں صرف دریا حائل تھا۔ یزدگرد نے وہاں بھی پیغام بھجوایا اور کہا کہ جہاں جہاں اپنے فوجی موجود ہیں، وہاں سے انہیں بُہر شیر لے آؤ اور بُہر شیر کا دفاع مضبوط کرو تاکہ مسلمان شہر کا محاصرہ کریں تو محاصرہ اتنا طویل ہو جائے کہ وہ مایوس ہو کر واپس چلے جائیں۔ ٭
سعدؓ بن ابی وقاص بابل سے چلے تو راستے میں فارس کے بیشمار شہریوں نے جن میں مختلف بستیوں کے رؤسا اور اُمراء شامل تھے سعدؓ سے آکر ملے اور اطاعت قبول کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ان میں لوگوں میں سے کئی ایک نے اسلام قبول کر لیا اور کئی جزیہ کی ادائیگی پر رضا مند ہو گئے۔
سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیر پہنچ گئے۔ انہیں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ ہاشم بن عتبہ نے بہر شیر کے شیر کو تلوار سے مار ڈالا تھا۔ تاریخِ طبری میں لکھا ہے کہ سعدؓ نے جواں سال ہاشم بن عتبہ کو گلے لگالیا اور اس کا ماتھا چوما ۔ہاشم نے جھک کر بڑے احترام سے سعدؓ کے پاؤں اور گھٹنے چھو لیے۔
ہاشم بن عتبہ سعدؓ بن ابی وقاص کا بھتیجا تھا۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مدائن اور بہر شیر ایک ہی شہر کے دو حصے تھے۔ ان کے درمیان سے دجلہ گزرتا تھا۔ بغداد مدائن سے بیس میل دور چھوٹی سی ایک بستی ہوا کرتی تھی۔ مؤرخوں ے لکھا ہے کہ مدائن شروع سے ہی فارس کا دارالسلطنت چلا آرہا تھا۔ تعیرہات اور باغات کے لحاظ سے بابل کی خوبصورتی مشہور تھی۔ وہ تو قصہ پارینہ ہو چکی تھی اور اس کے کھنڈر اس پر نوحہ کناں تھے۔ اس کے بعد خوبصورتی کے لحاظ سے جس شہر نے شہرت پائی وہ مدائن تھا۔ اپنے اس دارالسلطنت کو دنیا کا حسین شہر بنانے کیلئے ملک کے خزانے لُٹا دیئے گئے تھے۔ مدائن پر رومیوں کا بھی قبضہ رہا اور مدائن بار ہا اندرونی بغاوتوں سے بھی دوچار ہوا۔ اس کا امن و سکون تباہ ہوا۔ اس کی گلیوں میں خون بہہ گیا، لیکن اس شہر کے حسن و جمال میں کوئی فرق نہ آیا۔
ایک یورپی مؤرخ نے لکھا ہے کہ مدائن میں ساحرانہ کشش تھی۔ اجنبی اس شہر میں آکر مسحور ہو جاتے تھے۔ یہاں کے قحبہ خانوں ،شراب خانوں ،رقص گاہوں اور عشرت کدوں کی شہرت دوسرے ملکوں تک پہنچی ہوئی تھی۔
سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیر سے کچھ دور خیمہ زن ہو کر دجلہ کے پار مدائن کو دیکھ رہے تھے، جو ایک ہیرے کی طرح چمک رہا تھا ۔اس کی شہرِ پناہ پر بُرج اور ان کے سنہری کلس دیکھے۔ شاہی محل کے گنبد اور مینار دیکھے۔ کسریٰ کا محل بلندی پر کھڑا تھا، اس لیے شہر کی دیوار دیکھنے والوں کی نظروں کے آگے رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔
مؤرخوں کے مطابق یہ محل اپنے زمانے میں عجائباتِ عالم میں شمار ہوتا تھا۔ یہ محل کسریٰ نوشیرواں نے ۵۵۰ء میں تعمیر کروایا تھا ۔معمار رومی اور یونانی تھے، اس لیے یہ محل روم اور یونان کے فنِ تعمیر کا غیر معمولی طور پر حسین شاہکار بن گیا تھا۔
محمد حسنین ہیکل نے محل کے سامنے کی چوڑائی ایک سو پچاس میٹر سے زیادہ اور بلندی چالیس میٹر لکھی ہے ۔اس کے پانچ گنبد تھے۔ درمیان والا گنبد سب سے زیادہ بڑا اور اونچا تھا۔ اس کے نیچے ایوانِ کسریٰ تھا، یہیں کسریٰ کا تخت تھا۔ جس میں جڑے ہوئے ہیروں اور نایاب پتھروں کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے کئی حصے تو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔
سعدؓ بن ابی وقاص گھوڑے پر سوار ایک بلند ٹیکری پر کھڑے تھے۔ ان کے ایک طرف زہرہ بن حویہ اور دوسری طرف ہاشم بن عتبہ گھوڑوں پر سوار موجود تھے۔
تین چار مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سعدؓ کچھ دیر مدائن کی طرف دیکھتے رہے، انہوں نے اتنا بڑا اور خوبصورت شہر شاید پہلی بار دیکھا تھا اور انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر کو فتح کر لیں گے اور یہ سلطنتِ فارس کے تابوت میں آخری کیل ہو گی۔
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر ﷲ کا شکر ادا کیا اور پھر بلند آواز سے یہ آیت پڑھی:
’’کیا تم نے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہارے لیے زوال نہیں ہے!‘‘
اس وقت سعدؓ بن ابی وقاص کے ذہن میں یقینا فارس کی عظیم سلطنت کا زوال تھا۔
’’میرے عزیزو!‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے زہرہ اور ہاشم سے کہا۔’’ مدائن کے ان گنبدوں کے نیچے کسریٰ پرویز نے رسول ﷺ کا پیغامِ حق پھاڑ کر اڑا دیا تھا……
کیا تمہیں یہ گنبد لرزتے محسوس نہیں ہو رہے؟‘‘
’’بیشک……بیشک!‘‘زہرہ اور ہاشم بیک زبان بولے اور دونوں نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔’’ﷲ……ﷲ۔‘‘ ٭
٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭
–
اس وقت وہ بُہر شیر سے کچھ دور تھے۔ ان کے تمام دستے جو قادسیہ سے پسپا ہونے والے فارسیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے ،ان کے پاس پہنچ گئے تھے ۔رات کو سعدؓ نے سالاروں اور قبیلوں کے سرداروں کو بلایا۔
’’میں جانتا ہوں کہ مجاہدین بہت تھکے ہوئے ہیں۔‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ خدا کی قسم! ان کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں گی لیکن ہم آرام کرنے بیٹھ گئے تو آتش پرستوں کی فوج اس شہر میں اکٹھی ہو جائے گی، اور ہمارے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن جائے گی ۔ہمیں فوراً اس شہر پر حملہ کر دینا چاہیے ۔ شہر کے دروازے کھلے ہیں ۔اگر ہم شہر میں داخل ہو گئے تو اندر جتنی بھی فوج ہوئی اس کا مقابلہ کر لیں گے……
اگر دروازے بند ہو گئے تو محاصرہ بہت لمبا ہو گا۔ مجاہدین کو شہر پر حملے کیلئے فوراً تیار کرو۔‘‘ اِدھر مجاہدین کو حملے کیلئے تیار کیا جانے لگا اُدھر فارس کی وہ فوج جو بُہر شیر کے باہر نظر آرہی تھی، وہ بڑی تیزی سے شہر کے اندر چلی گئی اور شہر کے دروازے بند ہو گئے۔ فوراً ہی بعد شہر کی دیواروں کے اوپر یہ فوجی تیر کمانیں لیے کھڑے نظر آنے لگے۔ بُہر شیر کی وہ دیوار جو دریا کی طرف تھی، وہ دریا کے اندر تھی۔ وہیں سے مدائن تک پل تھا ۔
تاریخ میں یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ پُل کشتیوں کا تھا یا لکڑی وغیرہ سے بنایا گیا تھا۔ یہ واضح رہے کہ پل اتنا مضبوط تھا کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فوج گزر جاتی تھی۔
سعدؓ بن ابی وقاص کو معلوم نہ ہو سکا کہ رات کے وقت مدائن سے فوج اور دیگر ساز و سامان بُہر شیر بھیجا جاتا ہے اور اس طرح شہر کا دفاع بہت مضبوط کیا جا چکا ہے ۔جس شہر کا محاصرہ کیا جاتا تھا، اس شہر کے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء ملتی رہتیں تو محاصرہ بہت ہی لمبا ہو جاتا تھا۔ بُہر شیر میں خوراک کی کوئی قلت نہیں تھی۔ یزدگرد نے بُہر شیر کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ایسا تہیہ کر لیا تھا کہ وہ خود راتوں کو فوجوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا تھا، پھر خود بُہر شیر آکے دیکھتا تھا کہ لوگوں میں دفاع کا جذبہ کمزور تو نہیں ہو گیا۔ اس کی بہن پوران جو فارس کی ملکہ رہ چکی تھی، یزد گرد سے کہیں زیادہ وطن پرست تھی۔ اس نے اپنا وہی طریقہ کار جاری رکھا ہوا تھا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر مدائن کی گلیوں میں گھومتی پھرتی، کہیں رُک کر لوگوں کو اکٹھا کرکے بڑے ہی جذباتی اورجوشیلے الفاظ میں ان کے حوصلے مضبوط کرتی ۔بُہر شیر کے لوگوں کو تو اس نے اس قدر گرما دیا تھا کہ بچے بچے فارس پر جان قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’تم دیکھ رہے ہو کہ مسلمان آدھے سے زیادہ فارس پر قابض ہو کر تمہارے دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔‘‘ یہ پوران کے الفاظ تھے جو مدائن اور بُہر شیر کی گلیوں میں گونجتے اور گرجتے رہتے تھے ۔’’ہمارے جرنیل اور ہماری ساری فوج اتنی بزدل نکلی کہ چند ہزار مسلمانوں کے سامنے بھی نہ ٹھہر سکی۔
‘‘پوران لوگوں کی غیرت کو جگانے کیلئے اور انہیں ڈرانے کیلئے یہ الفاظ ضرور کہتی تھی ۔’’ان تمام شہروں سے جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ہے، مسلمانوں نے تمام نوجوان لڑکیوں اور جوان عورتوں کو اپنے پاس رکھ لیا ہے اور ان میں جو بہت خوبصورت ہیں انہیں عرب بھیج دیا ہے ۔تم نہیں جانتے کہ مسلمان کیسے وحشی اور درندے ہیں۔ انہوں نے تمام مویشی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں ،جنہیں وہ ذبح کرکے کھاتے رہتے ہیں ۔مذہنی پیشواؤں اور بڑے بڑے رئیسوں اور معزز لوگوں کو بھی انہوں نے غلام بنا لیا ہے۔ اگر تم نے مسلمانوں کو یہیں ختم نہ کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بیٹیاں مسلمانوں کی لونڈیاں اور کنیزیں بنی رہیں گی، تمہارے گھر میں جتنا مال و دولت ہے وہ مسلمان اٹھا لیں گے اور تم فاقہ کشی پر مجبور ہو جاؤ گے۔ یہ بھی سمجھو کہ اپنے دیوتاؤں کا اور زرتشت کا جو قہر تم پر گرے گا وہ بڑا ہی بھیانک ہوگا اور اگر تم عربوں کے آگے جم گئے تو خدائے آفتاب کی ایسی ایسی نعمتیں تم پر نچھاور ہوں گی جنہیں تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے آگے بڑھ کر شہر کا محاصرہ کر لیا، تب انہیں پتا چلا کہ دریا کی طرف سے شہر کو کمک اور رسد باقاعدگی سے مل رہی ہے ،لیکن اس کا وہ کوئی سدِباب نہیں کر سکتے تھے کیونکہ دریا کی طرف دیوار کی لمبائی خاصی زیادہ تھی۔ یہ دیکھا گیا کہ تیروں سے کمک کو روکا جا سکتا ہے یا نہیں ۔لیکن جہاں سے تیر چلائے جا سکتے تھے وہاں سے پُل بہت دور تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے شہر کے تین اطراف گھوم پھر کر دیکھ لیا۔ شہرِ پناہ پر اس قدر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے فارسی موجود تھے کہ آگے بڑھ کر دیوار کو کہیں سے توڑنا یا دیوار پر کمند پھینک کر چڑھنا ناممکن تھا۔
’’میرے عزیز رفیقو!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں اور سردارو ں کو بلا کر کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط ہے اور ہم جانوں کی اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ دروازے کو توڑنے کیلئے آگے بھیجیں ۔محاصرہ لمبا ہو گا جس کا ہمیں صرف یہ فائدہ ملے گا کہ ہمارا لشکر آرام کرلے گا اور جو پہلے کے زخمی ہیں وہ ٹھیک ہو کر لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں گے۔
لیکن غور کرو کہ ہم ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں جو یہ ہے کہ بیشمار فارسی فوجی چھُپ گئے ہیں۔ ان کے بڑے جرنیل تو مارے گئے ہیں لیکن چھوٹے افسر ابھی زندہ ہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں نے مثنیٰ کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔یہ لوگ اب بھی وہ حرکت کر سکتے ہیں ۔اب فوجی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر ہم پر پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اِدھر اس شہرمیں بہت سی فوج موجود ہے ۔اگر ہم پر عقب سے حملہ ہو گیا تو شہر کی فوج پھر باہر آجائے گی۔ پھر تم سوچ سکتے ہو کہ ہمارا کیا انجام ہو گا۔ کیا تم میری اس کارروائی کو پسند کرو گے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے کے لوگوں کو وہ کسان ہیں، فوجی ہیں یا کوئی بھی ہیں ،پکڑ کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور اُن پر پہرہ لگا دیا جائے؟‘‘ ’’بیشک……بیشک!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں۔’’ اور یہ کارروائی فوراً ہونی چاہیے۔‘‘
یہ سعدؓ بن ابی وقاص کی دور اندیشی تھی۔ فارس کے اس علاقے کے لوگوں کی فطرت میں یہ شامل تھا کہ وہ ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہونے پر بغاوت کر دیتے تھے ۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعدؓ بن ابی وقاص کی یہ دور اندیشی ان ہی کی عسکری دانشمندی کا کرشمہ تھا۔ اپنے سالاروں کی تائید حاصل کرکے انہوں نے ایک دستہ تمام علاقے کے لوگوں کو پکڑ لانے کیلئے بھیج دیا۔ ٭
اس کارروائی میں کچھ دن لگ گئے ۔لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیاجاتا رہا اور اس طرح چند دنوں میں ایک لاکھ افراد جو سب کے سب مرد تھے اکٹھے کر لیے گئے۔ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔انہیں بتایا گیا کہ انہیں کھانے پینے کیلئے ملتا رہے گا اور اس کے سوا کہ انہیں یہیں موجود رہنا پڑے گا کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی۔
دو مؤرخوں جن میں محمد حسنین ہیکل بھی شامل ہے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اردگرد ان ہی لوگوں سے خندق کھدوالی تھی تاکہ عقب کے خطرے سے بھی محفوظ ہو جائیں لیکن زیادہ تر مؤرخوں نے ایسی خندق کا ذرا سا بھی ذکر نہیں کیا نہ ہی یہ خندق صحیح معمول ہوتی ہے ۔
سعد ؓبن ابی وقاص ایسے جرنیل تھے جو اپنے عقب میں ایسی رکاوٹ کبھی کھڑی نہیں کیا کرتے تھے۔ محاصرہ لمبا ہوتا جا رہا تھا ۔ایک روز ساباط کا ایک رئیس شہرزاد سعدؓ بن ابی وقاص کے پاس آیا۔
’’محترم سپہ سالار!‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ آپ نے اس علاقے کے تمام آدمیوں کو اپنے قیدی بنا لیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ سب کسان ہیں ۔ان کا ذریعۂ معاش کاشتکاری ہے ۔ ان کی گرفتاری کی وجہ سے کھیتی باڑی کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے انہیں یہاں بٹھائے رکھا تو کھیتیاں ویران ہوجائیں گی۔ اس کا نقصان لوگوں کو تو ہوگا ہی، خود آپ کو نقصان یہ ہو گا کہ محاصرہ زیادہ لمبا ہو گیا تو آپ کے لشکر کو کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ یہ سب غریب سے کسان ہیں ۔اگر یہ تیغ زنی اور تیر اندازی کی کچھ سوجھ بوجھ رکھتے تو انہیں فوج میں لے لیا جاتا ۔ان میں آپ کو بہت سے ایسے بھی ملیں گے جو جنگی گھوڑے کی سواری میں بھی مہارت نہیں رکھتے۔
’’لیکن کون ہے جو ان کی ضمانت دے سکتا ہے؟‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ان میں فوجی بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
’’ایک بھی نہیں۔‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ ہم نے کوئی ایک بھی فوجی نہیں دیکھا جو کسی بستی میں آکر چھپا ہو۔اس لیے کہ بھگوڑے فوجی لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ لوگ انہیں طعنے دیں گے کہ وہ بزدل ہیں اور بھاگ آئے ہیں……
ان کی ضمانت میں دیتا ہوں اور میں دوسری بستیوں کے رئیسوں اور جاگیردروں کو بھی لے آتا ہوں۔ وہ سب ان کی ضمانت دیں گے۔ اگر ان سب نے نہیں، صرف چند ایک نے بھی گڑبڑ کی تو آپ ہمیں قتل کر دیں۔‘‘ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ سعد ؓبن ابی وقاص روز بروز محاذ کی کار گزاری اور صورتِ حال لکھوا کر امیر المومنین ؓکیلئے مدینہ بھیجا کرتے تھے ۔انہوں نے شہرزاد سے کہا کہ وہ آج ہی ان سب کو آزاد کر دیں گے، تاکہ یہ اپنے کام کاج میں مصروف ہو جائیں اور آج ہی قاصد کو مدینہ بھیجیں گے اگر امیر المومنین ؓنے یہ حکم بھیج دیا کہ ان لوگوں کو اپنا قیدی بنائے رکھو تو میں انہیں پھر پکڑنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔ تقریباً تمام تارخ نویسوں نے لکھا ہے کہ ان تمام دیہاتی قیدیوں کو یہ وارننگ دے کر آزاد کردیا گیا کہ ذرا سا بھی شک ہوا کہ ان میں سے کچھ لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے فوراً بعد سعد ؓبن ابی وقاص نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو پیغام بھیجا کہ انہوں نے عقبی خطرے کے پیشِ نظر یہاں کے تمام لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا،لیکن کھیتی باڑی کا کام رک جانے کی وجہ سے اور یہاں کے جاگیرداروں اور رئیسوں کی ضمانت پر انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ مجھے اس کارروائی کی توثیق یا تردید درکار ہے۔
قاصد عموماً تیز رفتار گھوڑوں یا اونٹوں پر آیا جایا کرتے تھے ۔کچھ دنوں بعد حضرت عمر ؓکی طرف سے توثیق آگئی ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان لوگوں کو امان دے دو اور اگر ان میں سے کوئی جزیہ یا خراج دینا چاہے تو وہ لے لو۔ ورنہ جبر نہ کرنا کیونکہ جو کام محبت کر سکتی ہے وہ جبر نہیں کر سکتا۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے وہاں کے مقامی لوگوں میں سے جاسوس اور مخبر تیار کر لیے جو کسانوں اور غریب مسافروں کے روپ میں اس سارے علاقے میں گھومتے پھرتے رہتے، لوگوں سے ملتے ملاتے اور دیکھتے رہتے تھے کہ کسی گوشے میں بغاوت کی چنگاری تو نہیں سُلگ رہی۔ ٭
محاصرے کا ایک مہینہ پورا ہو گیا۔ مدائن کے محل میں یزدگرد اور پوران کبھی تو مطمئن ہوتے کہ بُہرشیر کا محاصرہ ناکام ہو جائے گا اور کبھی مسلمانوں کے نعرے سن کر مایوس ہو جاتے کہ مسلمانوں کا دم خم ٹوٹنے کے بجائے ان میں جوش و خروش پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے، یزدگرد شاہانہ عیش و عشرت بھول گیا تھا ۔اس نے اپنی ماں سے ملنا ملانا بھی کم کر دیا تھا۔ پوران بھی عیش و عشرت میں کچھ کم نہیں تھی لیکن ان حالات میں کہ مسلمان مدائن کی دہلیز تک پہنچ گئے تھے۔ پوران پر وطن پرستی غالب آگئی تھی۔ ان دونوں نے مذہبی پیشواؤں کو بلا کر کئی بارکہا تھا کہ عبادت گاہوں میں ہر وقت عبادت جاری رکھیں۔ ایک روز وہ یہودی راہب جو مسلمانوں کو روکنے کیلئے بڑا سخت جادو تیار کر رہا تھا، یزد گرد کے پاس آیا اسے دیکھ کر یزدگرد کی آنکھیں چمک اٹھیں جیسے فارس کا نجات دہندہ یہی یہودی راہب ہو۔ ’’کیا تم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے؟‘‘یزدگرد نے اسے دیکھتے ہی بیتابی سے پوچھا۔
٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭
جاری ہے..


