آج کی کتاب.:: The Mother مصنف:: Maxim Gorky (Russian-Soviet wri…

مصنف:: Maxim Gorky
(Russian-Soviet writer and political activist)
میکسم گورکی کا ناول” ماں ” ، اگرچہ روسی انقلاب لانے کے لئے براہ راست ذمہ دار نہیں ہے ، مگر پھر بھی اس ناول نے 20 ویں صدی کے اوائل میں روس میں انقلابی جذبات کو ہوا دینے والے نظریاتی منظر نامے کی تشکیل میں قابل ذکر کردار ادا کیا ۔ اس ڈرامے کی کامیابی اس وقت کی سماجی و سیاسی جدوجہد کے جوہر کو پکڑنے کی صلاحیت میں مضمر ہے ، جو محنت کش طبقے کی عدم اطمینان اور خواہشات کی عکاسی کرنے والے آئینے کی حیثیت سے کام کرتی ہے ۔
جس نے تبدیلی کے خواہشمند افراد میں یکجہتی کا احساس پیدا کیا ۔ جس نے اس دور کے انقلابی مفکرین اور کارکنوں کو متاثر کیا ۔
میکسم گورکی کے ناول” ماں ” میں ، مرکزی کردار "پیلیجیا نیلوونا” *Pelageya Nilovna)*
جوابتدائی طور پر روایتی اور مطیع زندگی گزار رہی ہے ۔ جسے روزانہ کی بنیادوں پر خاوند سے مار پڑتی ہے اور رات گزر جانے پر ایک نئے دن کی شروعات بھی اسی طرح گھریلو جھگڑوں اور خاوند کی مار پیٹ سے ہوتی ہے
وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے بنیادی طور پر لا علم ہے۔ وہ غربت میں پلی بڑھی مظلوم عورت ہے۔ وہ ایک سیدھی سادی عورت ہے جس کی زندگی تشدد اور ظلم سہتے ہوئے بسر ہوئی۔ اس نے اپنے خاوند اور سماج کے ستم برداشت کیے ہیں۔ اسے اپنے بیٹے پافل ( *Pavel* ) سے بہت پیار ہے۔ پافل وہ نوجوان ہے جو اپنے باپ کی وفات کے بعد فیکٹری میں ملازم ہو جاتا ہے۔ وہ وہاں کے ظلم وستم اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے تنگ ہے وہ فیکٹری میں انقلاب پسند لوگوں کے ساتھ ملتا ہے اور نشستوں میں بھی شامل ہوتا ہے ۔ وہ انقلابي کتابیں گھر بھی لانا شروع کرتا ہے کتابوں کے مطالعے سے اس کے ذہن میں انقلاب جڑیں پکڑ لیتا ہے۔ پافل سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہوتا ہے گھر میں پافل کے انقلابي دوستوں کی مجلس جمنا شروع ہوتی ہے۔ پافل کی ماں پہلے پہلے تو بیٹے کے منہ سے نکلے الفاظ سمجھنے سے قاصر ہے لیکن آہستہ آہستہ اسے وہ باتیں اچھی لگنا شروع ہوتی ہیں جو پافل دوستوں سے کرتا ہے
پافل کی ماں کے علاوہ اس ناول میں اور بھی کئی نسوانی کردار ہیں۔ ساشا ( *Sasha* )، لڈمیلا ( *Ludmilla* )، صوفیا ( *Sophia* ) اور نتاشا ( *Natasha* ) اپنے رشتے داروں اور گھر والوں کو چھوڑ کر انقلابیوں کے لیے سب کچھ ٹھکرا دیتی ہیں
یہاں ساشا ( *Sacha* ) کا کردار ایک لحاظ سے ہیروئین کا ہے۔ وہ پافل سے محبت کرتی ہے۔ اس جدوجہد کے دوران میں جیل جاتی ہے۔ جیل کا وارڈن اس سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتا ہے۔ ساشا بھوک ہڑتال کر دیتی ہے اور معافی نہ مانگنے تک ہڑتال جاری رکھتی ہے۔ آٹھ دن تک کچھ نہیں کھاتی۔ وارڈن معافی مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پافل کی ماں صرف پافل کی ماں نہیں اس کے دل میں سب کا مریڈز کے لیے محبت ہے۔ اسے پافل کے ایک دوست سے بہت پیار ہے جو یوکرائن کا رہنے والا ہے۔ وہ ہمیشہ اسے نیکو کہہ کر بلاتا ہے جو یوکرائن کی زبان میں ’’ *ماں* ‘‘ کو کہتے ہیں۔
پیلاجیہ ایک سرگرم کارکن بن جاتی ہے ۔جو مزدوروں اور غلاموں کے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے
جو سیاسی بیداری کی پیچیدگیوں اور افراد اور خاندانوں پر معاشرتی تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے ۔
ماں کا کردار اس وقت دیکھنے کے قابل ہوتاہے جب فیکٹری کی انتظامیہ علاقے کی بہتری کے لیے ہر مزدور کی تنخواہ سے ایک کوپک کاٹنا شروع کر دیتی ہے۔ پافل اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور ایک جلوس نکالنے کی تیاری کرتا ہے لیکن اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
پافل کی ماں کا اب ایک اور روپ سامنے آتا ہے۔ فیکٹری کے اندر سوشلزم کا لٹریچر لے جانے پر پابندی ہے۔ وہ اپنے کپڑوں میں چھپا کرپمفلٹ اندر لے جاتی ہے ۔ اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے کی یاداش میں پافل پر مقدمہ چلتا ہے اسے جج کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ جج کے سامنے بلند وبالا آواز میں تقریر کرتا ہے و کہتا ہے
” ہم اس نظام کے خلاف ہیں تم روحانی طور پر اسکے غلام ہو اور ہم جسمانی طور پر ہم تمھارے ساتھ اس نظام کی تبدیلی تک کونی سمجھوتا نہیں کرسکنے ”
اسے اس نظام سے بغاوت اور توہین عدالت کی وجہ سے
پافل کو سائبیریا جلا وطنی کی سزادی جاتی ہے۔ ماں لوگوں کے سامنے تقریر کرتی ہے اور کہتی ہے:
’’اگر ہمارے بیٹے جو ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کے لیے جان دے سکتے ہیں تو ہم اپنی جانوں کی قربانی کیوں نہیں دے سکتے‘‘
۔ ڈرامے کا یہ حصہ بہت جذباتی اور متاثر کن ہے۔ پافل کو سائبیریا روانہ کیا جانے والا ہے۔ ماں اس کی تقریر چھپوا کر لوگوں میں بانٹنا چاہتی ہے۔ اسے زار *Czarحکومت* کے سپاہی ڈنڈوں اور لاتوں سے مارتے ہیں وہ مار کھاتی ہے اور چلاتی رہتی ہے
۔
یہ ناول روسی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جسے کئی ایوارڈ بھی ملے اور اس پر متعدد فلمیں بھی بنائی گئی ہیں
اگرچہ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ناول "ماں” روسی انقلاب کے لیے واحد ذریعہ نہیں تھا، لیکن یہ ایک بڑی ثقافتی تحریک کا حصہ تھا جس نے موجودہ سماجی نظام سے عدم اطمینان کو ہوا دی ۔ اس ڈرامے کے سماجی انصاف کے موضوعات ، محنت کش طبقے کی حالت زار اور ایک زیادہ منصفانہ معاشرے کی خواہش انقلابی روح کے ساتھ ہم آہنگ تھی جس کے نتیجے میں بالآخر 1917 میں زار( *czar* ) حکومت جس کا آخری زار *Nicholas* II تھا ،کا تختہ الٹ دیا گیا ۔ اور بالاآخر روسی سوشلزم کا آغاز ہوا
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3832642726966232




ہت خوب
Bhai Yeah Book Mill Sakti Hay?
سافٹ فام میں یہ کتاب مل سکتی ہے؟
Can someone share the pdf of the book please ?
واقعی بہت شاندار ناول ہے۔ اس دور کی تہذیب و ثقافت،مظالم، لوگوں کے انداز فکر اور جدو جہد کو عمدہ انداز میں بیان کرتا ہے
ماشاءاللہ بہت عمدہ
Mashallah
میں نے یہ کتاب پڑھیں ھے بہت ہی اعلیٰ کتاب ہے
بہترین اقتباس، کتاب کو سمجھنے میں بہت آسانی ہو گئی۔
ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، ریحانہ امتیاز ڈار، خدیج شاہ ، صنم جاوید اسی ناول کے کردار ہیں