منتخب نظمیں

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر بھ…

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگئی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں

گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
نہیں
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟

سدرہ سحر عمران

#mahe


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/