افسانے

پوری دنیا میں قحط کا خطرہ؟ پہلے ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4077 پڑھیں اور پھر عالمی …

پوری دنیا میں قحط کا خطرہ؟

پہلے ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4077 پڑھیں اور پھر عالمی سطح پر قحط سالی آنے کے خطرات کے بارے میں بین الاقوامی رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔

دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے تین سخت سال آئیں گے ۔ ان میں لوگوں کو سخت بھوک کا سامنا ہو گا ۔ پہلے سال اللہ کے حکم سے آسمان تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار روک لے گی ۔ دوسرے سال اللہ کے حکم سے آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی ۔ تیسرے سال اللہ کے حکم سے آسمان ساری بارش روک لے گا ، ایک قطرہ بھی نہیں برسے گا ۔ اور زمین ساری پیداوار روک لے گی ۔ کوئی سبزہ نہیں اگے گا ، چنانچہ سارے مویشی ہلاک ہو جائیں گے مگر جو اللہ چاہے۔ (سنن ابن ماجہ 4077، 4075)

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے عالمی کھاد سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر وہ سمندری راستے جن کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ سے یوریا اور امونیا دنیا بھر میں پہنچتے ہیں۔ اس خطے کے بڑے پیداواری ممالک—ایران، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین—مل کر عالمی یوریا کا ایک تہائی سے زائد اور امونیا کا تقریباً ایک چوتھائی فراہم کرتے ہیں، جو دنیا کی تقریباً نصف زرعی پیداوار کی بنیاد ہیں۔

ایران اکیلا ہی عالمی یوریا سپلائی کا قریب 10 فیصد پیدا کرتا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈی کو ہلا دیتی ہے۔ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوتا جارہا ہے کیونکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ بہار کی بوائی کا آغاز ہونے والا ہے—یعنی اس دوران کھاد کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

امریکا میں پہلے ہی مہنگی کھاد نے خوراک کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، جبکہ بھارت جیسے ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی تقریباً 40 فیصد یوریا اور فاسفیٹ کھاد مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتے ہیں۔

متبادل سپلائرز میں چین ایک ممکنہ آپشن ضرور ہے، لیکن اس نے اپنے کسانوں کے تحفظ کے لیے کھاد کی برآمدات پر پابندیاں لگا رکھی ہیں، جبکہ خود اس کی پیداوار بھی اسی خطے سے آنے والے خام مال پر جزوی انحصار رکھتی ہے۔

مارکیٹ پر دباؤ واضح ہے۔ مصر میں یوریا کی قیمت ایک ہفتے میں 465 ڈالر سے بڑھ کر 665 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی—یعنی تقریباً 37 فیصد اضافہ۔ یہ رجحان ایک بڑے عالمی کھاد بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔

معاشی منطق سادہ ہے: مہنگی کھاد → کم استعمال → کم پیداوار۔ یعنی عالمی سطح پر قحط کی صورتحال بنتی جارہی ہے، اور اگر حالات یہی رہے تو ائندہ سالوں میں قحط کی صورتحال سنگین تر ہوتی جائے گی۔

منتخب


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/