منتخب غزلیں

وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا ہے اس سے بچھڑن…

وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا
ہے اس سے بچھڑنے کا ملال اور طرح کا

آثار خرابی کے ہیں، آغاز سے ظاہر
لگتا ہے کہ گزرے گا، یہ سال اور طرح کا

اس شہر زیاں کار کے امکان سے باہر
میں اب کے دکھاؤں گا، کمال اور طرح کا

ہوتا ہے ہمیشہ ہی نئے رنج میں ڈوبا
اس جادۂ وحشت پہ دھمال اور طرح کا

اس شہر فسوں گر کے عذاب اور، ثواب اور
ہجر اور طرح کا ہے، وصال اور طرح کا

اب گھر سے نکلنا ہی پڑے گا کہ مخالف
اس بار! اٹھاتے ہیں، سوال اور طرح کا

(خالد معین)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/