منتخب غزلیں


Related Articles

7 Comments

  1. ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
    لہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا

    بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
    توبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا

    زاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنا
    رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا

    سر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئی
    دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا

    آزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کر
    مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا

    اے رحمت تمام مری ہر خطا معاف
    میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا

    پیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجال
    در پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا

    اس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔ
    کل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا

    جگر مراد آبادی

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/