Home/منتخب غزلیں/ منتخب غزلیں admin Send an email 2019-04-107 493 Less than a minute Facebook X LinkedIn Tumblr Pinterest Reddit VKontakte Odnoklassniki Pocket admin Send an email 2019-04-107 493 Less than a minute Facebook X LinkedIn Tumblr Pinterest Reddit VKontakte Odnoklassniki Pocket Share Facebook X LinkedIn Tumblr Pinterest Reddit VKontakte Odnoklassniki Pocket Share via Email Print
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا لہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا توبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا زاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنا رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا سر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئی دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا آزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کر مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا اے رحمت تمام مری ہر خطا معاف میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا پیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجال در پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا اس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔ کل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا جگر مراد آبادی جواب دینے کے لیے لاگ ان کریں
Bhut khub
Ravi Sharma
Amazing
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
لہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا
بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
توبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا
زاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنا
رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا
سر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئی
دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا
آزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کر
مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا
اے رحمت تمام مری ہر خطا معاف
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
پیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجال
در پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا
اس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔ
کل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
جگر مراد آبادی
wah…
بہت خوب
بہت خوب