عالمی ادب

'' میں اس اجنبی سے واقف نہیں…!!! '&…

'' میں اس اجنبی سے واقف نہیں…!!! ''

میں نہ تو اس اجنبی سے واقف ہوں نہ ہی اس کے مناقب سے…!!
میں نے بس ایک جنازہ دیکھا تو اس کے پیچھے چل پڑا…!!
دوسروں کی طرح احتراما سر جھکائے ہوے…!!!
میرے پاس کوئ وجہ نہیں تھی کہ پوچھ لوں: یہ اجنبی کون ہے…؟؟
کہاں رہتا تھا..؟؟ اور کیسے مرگیا..؟؟
کیوں کہ موت کی وجوہات تو بہت ہیں؛ جن میں سے ایک 'درد زندگی" بھی ہے…!!!

میں نے خود سے پوچھا: یہ ہمیں دیکھ رہا ہے..؟؟ یا عدم کو دیکھ کر انجام پر افسردہ ہے…؟؟
مجھے معلوم تھا کہ وہ بنفسجی پھولوں سے ڈھکی لاش کو ہرگز نہیں کھولے گا…!!
کہ ہمیں الوداع اور شکریہ کہ دے..!! اور حقیقت کی سرگوشی کردے.!!
(کہ حقیقت کیا ہے؟؟)
شاید ان گھڑیوں میں وہ بھی ہماری ہی طرح ہے..!! اپنا سایہ لپیٹ رہا ہے…!!

لیکن یہ وہ ہے جس کی آنکھ آج کی صبح تک نم ناک نہیں تھی.!!
اس نے موت کو اپنے اوپر باز کی طرح منڈلاتے نہیں دیکھا تھا…!!
کیوں کہ زندے تو موت کے چچیرے ہوتے ہیں…!!!
اور مرنے والے سوئے رہتے ہیں، پرسکون، پرسکون، پرسکون…!!

میرے پاس یہ سوال کرنے کا کوئ سبب نہیں تھا کہ: یہ اجنبی کون ہے…؟؟
اس کا نام کیا ہے…؟؟
اس کے نام میں کوئ چمکتی بجلی بھی نہیں، جب کہ اس کے پیچھے چلنے والے…!!
بس دس لوگ ہیں…!! میرے علاوہ…!!

چرچ کے دروازے پر مجھے یہ خیال آیا…!!
شاید یہ کوئ مصنف ہے…؟! یا مزدور…؟! یا پناہ گزیں…؟! یا چور…؟! یا شاید کوئ قاتل…؟!

کوئ فرق نہیں…!! موت کے لیے سب مرنے والے ایک سے ہیں…!!
یہ بولتے نہیں…!! شاید یہ خواب بھی نہیں دیکھتے…!!

اجنبی کا یہ جنازہ شاید میرا ہی جنازہ ہے…!!!
لیکن کسی امر الہی نے بعض وجوہات سے اس کو ٹال دیا ہے…!!
اور پھر…!!! اس قصیدے میں ایک بڑی غلطی ہے…!!!!

لا أعرف الشخصَ الغريبَ ولا مآثرهُ
رأيتُ جِنازةً فمشيت خلف النعش
مثل الآخرين مطأطئ الرأس احترامًا.
لم أجد سببًا لأسأل: مَنْ هُو الشخصُ الغريبُ؟
وأين عاش، وكيف مات..
فإن أسباب الوفاة كثيرةٌ..
من بينها وجع الحياة
سألتُ نفسي: هل يرانا
أم يرى عَدَمًا ويأسفُ للنهاية؟
كنت أعلم إنه لن يفتح النَّعشَ المُغَطَّى بالبنفسج
كي يُودِّعَنا ويشكرنا ويهمسَ بالحقيقة
(ما الحقيقة؟)
رُبَّما هُوَ مثلنا في هذه الساعات يطوي ظلَّهُ.
لكنَّهُ هُوَ وحده الشخصُ الذي لم يَبْكِ في هذا الصباح،
ولم يَرَ الموت المحلِّقَ فوقنا كالصقر
فأحياء هم أَبناءُ عَمِّ الموت،
والموتى نيام هادئون وهادئون وهادئون
ولم أَجد سببًا لأسأل: من هو الشخص الغريب
وما اسمه؟
لا برق يلمع في اسمه
والسائرون وراءه عشرون شخصًا
ما عداي (أنا سواي)
وتُهْتُ في قلبي على باب الكنيسة:
ربما هو كاتبٌ أو عاملٌ أو لاجئٌ
أو سارقٌ، أو قاتلٌ …
لا فرق،
فالموتى سواسِيَةٌ أمام الموت..
لا يتكلمون
وربما لا يحلمون .
وقد تكون جنازةُ الشخصِ الغريب جنازتي
لكنَّ أَمرًا ما إلهيًا يُؤَجِّلُها
لأسبابٍ عديدةْ
من بينها: خطأ كبير في القصيدة

شاعر: محمود درویش
اردو قالب: نائلہ حبیب


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3005630259667487

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/