مجھے لگا تھا ابو نے مجھے جھوٹ بول کر ایک اجنبی مر…
میرا نام مہرالنسا ہے۔
اور میرا تعلق لاہور کے ایک نہایت قدامت پسند گھرانے سے ہے، جہاں بیٹیوں کی زندگی اکثر اُن کے پیدا ہوتے ہی طے کر دی جاتی ہے۔
اچھی تربیت۔
اچھی شہرت۔
اچھا رشتہ۔
پھر رخصتی۔
بس۔
مگر میرے اندر ہمیشہ ایک عجیب بے چینی رہی۔
مجھے لگتا تھا دنیا صرف چار دیواری اور شادی تک محدود نہیں ہو سکتی۔
میں پچھلے تین سال سے اسلام آباد میں ایک software company میں کام کر رہی تھی۔ گھر والوں کو یہی لگتا تھا کہ “بیٹی experience لے رہی ہے”، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں چپ چاپ پیسے جمع کر رہی تھی۔
میرا خواب تھا کہ ایک دن اکیلے دنیا دیکھوں۔
استنبول کی فجر۔
سکردو کی برف۔
باکو کی راتیں۔
اور شاید کسی دن سمندر کنارے بیٹھ کر پہلی بار خود کو محسوس کروں۔
اسی لیے جب بھی گھر والے شادی کی بات کرتے، میں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی۔
“ابھی promotion ہونا ہے…”
“Project ختم ہو جائے پھر…”
“ابھی time نہیں…”
امی اکثر ناراض ہو کر کہتیں:
“لڑکی کی اصل عزت اُس کے اپنے گھر میں ہوتی ہے۔”
اور میں خاموش ہو جاتی۔
پھر ایک شام اچانک پھپھو کا فون آیا۔
آواز گھبرائی ہوئی تھی۔
“مہر فوراً لاہور آ جاؤ… تمہارے ابو کی طبیعت بہت خراب ہے…”
میرے ہاتھ سے laptop گر گیا۔
میں نے اُسی رات پہلی flight لی۔
پورا راستہ دل ڈوبتا رہا۔
بار بار یہی دعا:
“یا اللہ بس ابو ٹھیک ہوں…”
مگر جب گھر پہنچی…
تو دروازہ کھلتے ہی اندر سے ڈھولکی کی آواز آئی۔
رنگ برنگی لائٹس۔
مہندی کی خوشبو۔
رشتے داروں کا شور۔
اور درمیان میں بالکل ٹھیک سلامت بیٹھے میرے ابو۔
مجھے آج بھی یاد ہے…
اُس لمحے میرے اندر جیسے کچھ جل گیا تھا۔
میں نے کانپتی آواز میں پوچھا:
“یہ سب کیا ہے؟”
امی نظریں چرانے لگیں۔
پھپھو ہنس کر بولیں:
“مبارک ہو… کل تمہاری شادی ہے۔”
میرا دماغ سن ہو گیا۔
“ک… کس سے؟”
“بہت اچھا لڑکا ہے۔ اپنا business ہے۔ کراچی میں offices ہیں۔ شریف خاندان ہے۔”
“مگر مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں!”
ابو پہلی بار بولے:
“ہر بات اولاد سے پوچھ کر نہیں کی جاتی۔ کچھ فیصلے ماں باپ بہتر جانتے ہیں۔”
قسم سے…
اُس رات میں نے پہلی بار اپنے والد سے نفرت محسوس کی تھی۔
میں نے چیخ کر کہا:
“میں کوئی چیز ہوں؟”
“میری اپنی زندگی نہیں؟”
مگر گھر میں جیسے سب پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔
“رشتہ دار آ چکے ہیں…”
“اب انکار سے بدنامی ہو گی…”
“اب عزت کا سوال ہے…”
اور پھر وہ جملہ…
جو ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کی آخری شکست بن جاتا ہے۔
“اب بہت دیر ہو چکی ہے۔”
اگلے دن میری شادی تھی۔
میں نے dulha صرف تصویروں میں دیکھا تھا۔
نام تھا زایان۔
بس۔
نہ ملاقات۔
نہ بات۔
نہ پسند۔
نہ رضامندی۔
پورا دن میں غصے سے پتھر بنی بیٹھی رہی۔
نکاح ہوا۔
تصویریں بنیں۔
لوگ ہنستے رہے۔
اور میں اندر سے خالی ہوتی گئی۔
مگر ایک چیز عجیب تھی۔
وہ… بار بار مجھے دیکھ رہا تھا۔
ایسے نہیں جیسے مرد عورت کو دیکھتے ہیں۔
بلکہ جیسے کوئی کچھ کہنا چاہتا ہو مگر موقع نہ مل رہا ہو۔
میں ہر بار اُسے سخت نظروں سے دیکھتی۔
وہ خاموش ہو جاتا۔
پھر رخصتی کا وقت آ گیا۔
امی رو رہی تھیں۔
خالائیں دعائیں دے رہی تھیں۔
اور میں صرف ایک بات سوچ رہی تھی:
“آپ سب نے مجھے دھوکہ دیا ہے…”
میں گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔
چند منٹ مکمل خاموشی رہی۔
پھر میں نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا:
“تم ہو کون آخر؟”
وہ ذرا گھبرایا۔
“اُ… تمہارا شوہر۔”
“فضول بات مت کرو۔ سچ بولو۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا:
“میرا نام زایان ہے۔ لاہور اور کراچی میں software houses ہیں۔”
میں خاموش رہی۔
پھر سیدھا سوال کیا:
“شادی کے بعد میری job ختم؟”
اُس نے فوراً جواب دیا:
“کیوں ختم ہو گی؟”
میں پہلی بار اُس کی طرف مڑی۔
“کیا مطلب؟”
“تم اپنی job continue کرو گی۔ اگر چاہو تو remote بھی کر سکتی ہو۔”
میں اُسے دیکھتی رہ گئی۔
پھر پوچھا:
“اور تمہارے گھر والے؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“میں نے پہلے دن صاف کہہ دیا تھا… مہر اپنی مرضی کی زندگی گزارے گی۔”
میرے اندر پہلی بار خاموشی ٹوٹی۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا:
“اور اگر تم کبھی world tour پہ جانا چاہو… تو پہلے ہم ترکی جائیں گے۔ تمہیں استنبول بہت پسند ہے نا؟”
میرا دل ایک لمحے کو رک گیا۔
“تمہیں… یہ کیسے پتہ؟”
وہ ہنس دیا۔
“تمہاری Instagram drafts public تھیں کبھی۔”
میں حیران رہ گئی۔
پھر اُس نے بہت آہستہ سے وہ جملہ کہا جو آج تک نہیں بھولی۔
“میں جانتا ہوں تم ابھی مجھ سے نفرت کرتی ہو…”
“مگر ایک وعدہ کرتا ہوں…”
“میں تمہاری زندگی کو قید نہیں بننے دوں گا۔”
پتہ نہیں کیوں…
اُس لمحے میری آنکھوں میں پہلی بار آنسو آئے۔
نفرت والے نہیں۔
تھکن والے۔
آج اُس رات کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔
اور اس وقت زایان kitchen میں میرے لیے چائے بنا رہا ہے کیونکہ مجھے migraine ہے۔
ہم نے ساتھ سکردو دیکھا۔
استنبول دیکھا۔
باکو کی بارشوں میں بھیگے۔
اور پچھلے سال جب میں نے پہلی بار تنہا solo trip پر جانے کی ضد کی، تو اُس نے خود میرا backpack pack کیا تھا۔
کبھی کبھی قسمت ہمیں ایسے لوگوں سے ملواتی ہے…
جنہیں ہم شروع میں سزا سمجھتے ہیں…
مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ وہی ہماری سب سے بڑی رحمت تھے۔ 🥀
©️ انتخاب سخن
~ Faizaan~
#urdu #urduadab #husbandandwifelife #marriedlife #couplegoals

