منتخب غزلیں
( غیر مطبوعہ ) شادمانی کا یہ کہنا ہے کہ وہ نا ش…

( غیر مطبوعہ )
شادمانی کا یہ کہنا ہے کہ وہ نا شاد ہے
خار کے اطوار سے لگتا ہے گل برباد ہے
فیس بک پہ منصفوں کی اس قدر بھرمار ہے
عدل اپنے زائچوں کی گود میں آزاد ہے
روشنی کے رنگ کتنے کھا گئی ہے تیرگی
رات پر واریں اجالا یہ طریقِ داد ہے
اس ادب کے قافلے میں چند غزمیں ہیں پڑی
فن کے بجھتے ضابطوں پر یہ بھی اک افتاد ہے
چارہ گر کے دست و بازو میں نمو ہے زہر کی
آدمیت کی ہر اک دہلیز پر صیاد ہے
( سعدیہؔ بشیر )


