من_در_عشق_باشما_ہستم_از_ثمرین_شاہ #Episode_36 #P…

#Episode_36 #Part_2
اسامہ مڑا اس نے گھور کر اس ویمپ کو دیکھا
جو اپنے فون کو ہلکہ ہلکہ سا اچھال رہی تھی اس کا فون بجنے لگا صبح نے اسے دیکھا جو اپنے کوٹ سے فون نکال رہا تھا
"اسلام وعلکیم ! او سوری یار انفورم کرنا بھول گیا اچھا سُنو جو خبر اکھٹی کی تھی تم نے مزید دو لڑکیوں کے گھر جاو ہاں ہاں ٹیسٹ کروا کر انھیں اکسپوز کرو دھمکی کی ضرورت نہیں ایسا شخص دھمکی کے قابل نہیں ہے تم لوگ فکر نہ کروں تم لوگ میری پروٹیکشن میں ہو ٹھیک ہے بس کام میں لگ جاو بس ان شا اللہ جلد آرہا ہوں اوکے اللہ حافظ !!۔” اس نے فون ڈیش بورڈ میں رکھا مگر صبح کا حیرت سے کھلا منہ اور پھٹی ہوئی آنکھیں اسے اپنے اوپر محسوس ہوئی
"دھمکی ، دو لڑکیاں اسامہ تم واقعی گینگسٹر بن گئے ۔”
ٹام صاحب کے چہرے میں بڑی شرارت بھری مسکان آئی اب آئی نا جیری ہاتھوں میں
"اب کیسے چھپا سکتا ہوں ہاں انڈر ورلڈ سے تعلق ہے میرا مگر مجھے پتا چلا میری بیوی کرائیم کی سڈوڈنٹ ہے ۔”
Unbelievable are you serious
اسامہ نے گن سائڈ بورڈ سے نکالی صبح ایک دم پیچھے ہوئی وہ مسکرا پڑا مگر اچانک صبح نے جھک کر اپنے پرس سے کچھ نکالا اور اسے نکالنے کے بعد اسامہ کا منہ کھل گیا
"گریٹ اگر آپ گینگسٹر ہے تو میں دہشت گر دیکھیں بم ہیں جیسے وہ گن اصلی ہے تو یہ بھی اصلی ہے ۔”
اس نے گرینائٹ بم اپنے ہاتھوں میں سامنے کیا اسامہ ہنس پڑا
"بچوں کو پاگل بنا سکتی ہوں مجھے نہیں ۔”
"نہیں یہ شاہی خاندان سے خاص لائی ہوں جہاں دین بھائی کام کرتے ہیں وہ شہزادے کو بھانجا نئیں ہے قاسم وہ سائینٹسٹ ہے اس نے مجھے دیا گفٹ میں یہ پورے جگہ کو نہیں بس ایک بندے کو تباہ کرسکتا ہے اور میں اپنی پروٹیکشن کے لیے لائی ہوں ۔”
اس کی لہجے میں مضبوطی محسوس کر کے اسامہ کے اندر سرد لہر دوڑی تب ہی یہ محترمہ ڈیٹ پہ مانی تھی تاکہ میرا صفایا کر سکے
"صبح مزاق ہے نا ۔”
"نہیں میں بھلا آپ سے کیوں مزاق کروں گی کھبی کیا ہے میں نے ۔”
وہ اس کے سامنے کرتے ہوے بولی اسامہ پیچھے ہوا
"پلیز اگر یہ اصلی ہے تو واپس رکھو اسے ۔”
"ارے گینگسٹر کو کیسے ڈر لگ سکتا ہے فکر نہ کریں زیادہ نہیں بس تھوڑا سا منہ جلاتا ہے چھوٹا سے اکپلوزو ہے ۔”
"صبح رکھو اسے واپس ۔”
اسامہ نے تیزی سے ڈرائیو کرتے اس کا ہاتھ پیچھے کیا
"اچھا بس اس کا رنگ اُٹھا دوں پھر رکھتی ہوں ۔”
وہ اس کے رنگ کو کھینچنے لگی وہ چیخا
"صبح سٹاپ اِٹ !!۔”
"کیوں بس تھوڑا سا کھولو گی آخر آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں نا تو میں بھی اپنی نفرت کا اظہار کرنے لگی ہوں ۔”
"پاگل لڑکی رکھو اسے ورنہ الٹے ہاتھ کی پڑیں گی ۔”
وہ دھاڑا پہلے والا اسامہ دی چکی اگیا
"نہیں رکھو گی ۔”
اس نے ناک چڑائی
"رُکو میں بتاتا ہوں ۔”ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھامے دوسرے سے پکڑنے لگا کہ صبح پیچھے ہوئی وہ گاڑی روکنے لگا کہ صبح نے رنگ ہٹا دیا اسامہ نے تیزی سے کار کا دروازہ کھولا اور تیزی سے نکلا لیکن پھر صبح کو نقصان مڑا کے ٹھا کی آواز اور دھوا
"صبح !!
•••••••••••••
گاڑی سے دھوا نکلنے لگا وہ جلدی سے اندر گھسا لیکن اس کی سمیل
"او مائی صبح !!۔”
وہ چیخا !!۔” اس نے بڑھ کر دوسرا دروازہ کھولا لیکن سر پہ حاوی ہورہی تھی
"اُف پاگل لڑکی میں اس کو اُٹھا کر پٹھک کر رہوں گا اگر اسے کچھ ہوا صبح !!۔”
ایک دم کسی کی پاگلوں والی ہنسی آئی وہ گلاسس اُتار کر دوسری طرف بھاگنُے لگا جب صبح پیٹ تھامے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہی تھی
"آئی جسٹ پرینک یو چکی !!۔”
"ویسے اسامہ میں بچی ضرور مگر بیوقوف نہیں ۔”
وہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اسامہ نے حیرت سے دیکھا جب فلیش اس پر پڑا دیکھا اس نے تصویر لی
"چہرہ دیکھیں اپنا او گاڈ !۔”
وہ وہی صبح بن گئی اتنی جلدی اتنی آسانی سے پھر اسامہ دی چکی کو غصہ آیا اور وہ پھرتی سے بڑھا نور نے چونک کر دیکھا اور تیزی سے بھاگی
"میں تمھارا قتل کردوں گا صبح !!۔”
"ہاں چکی جو ٹہرے !۔”
وہ تیزی سے بولی وہ ایک سُنسان علاقے میں تھے کیونکہ وہ اسے بیچ پر لے کر جارہا تھا جو اب قریب ہی تھا مگر صبح کی حرکتیں کروا ہی نہ دیں ڈیٹ
صبح کی سپیڈ اس بار کچھ زیادہ ہوگئی تھی کیونکہ وہ اب سپورٹس ومن تھی انرجی لیول بھی زیادہ تھا
پر اچانک کُتے کی آواز پر وہ رُک گئی اور ایک دم کالا لمبا کُتا دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئی وہ ڈر کر مڑنے لگی اسامہ نے اسے اُٹھا لیا وہ چیخی !!۔”
"ہاں اب تو میں اس کے سامنے اب کھانا پیش کرنے لگا ہوں کیا حال ہے ۔”
وہ گرانے لگا کہ نور نے اس کے کالر تھام کر کانوں میں چیخی "اب تو پکا گراؤں گا ۔”
"نہیں نہیں ۔”
پھر وہی سین ہوا تھا ان کے ساتھ وہ اس کو تنگ کر مزید قریب لے کر جارہا تھا کُتے کے جو مسلسل کھڑے بھونک رہا تھا نور نے اس کے بال کھینچ لیا
"صبح !!!۔”
وہ غصے سے بولا ایک دم کُتا بھاگ گیا اسامہ نے دیکھا تو ہنس پڑا
"ابھی تک کُتے سے ڈرتی ہوں وہ تم جسی بھینس کو کچھ نہیں کہے گا ۔”
"بھینس کس کو کہا ۔”
وہ غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولی
"تمھیں ۔”
"تو اپنے چہرہ دیکھا معصومیت کے پیچھے سب سے بڑے سریئل کلر دکھتے ہو اب اُتارو مجھے ۔”
"نہیں اُتارو گا ویسے حد ہوتی ہے اگر مجھے چوٹ لگ جاتی ۔”
"تو میں کیا کرو چھ سال اتنے گہرے زخم دیں کر اپنے چوٹ کی پڑی ہے تمھیں ۔”
وہ پُرانے والے موڈ میں آگئی اسامہ کا کے کانوں میں وہی موسیقی ابھری
Your the best Chucky I’m lucky to have you
اور وہ کمزور پڑ گیا جھکنے لگا مگر آنکھوں میں اجازت کی درکار تھی ایسا بھی کوئی ہوتا ہے جو اپنی شرعی بیوی سے اس کو چھونے کی اجازت چارہا ہو اتنی پاک بازی صبح رُک سی گئی اور اپنی موٹی آنکھوں سے اس کی سٹیل بلیو آنکھوں میں دیکھنے لگی اچانک سے پلکے گری کیونکہ ان آنکھوں میں بہت سے جذبات تھے جن کی وہ تاب نہ لاسکی مگر آنکھوں انجانے میں اجازت دیں دی گئی تھی اور پھر اسامہ نے اس پر پیار کی مہر چھوڑ دی اور اس وقت نور صبح کو لگا تھا وہ بے ہوش ہوکر گر جائے گی رشتہ کا پہلا استحقاق استمعال کیا
اس نے پھر صبح کو دیکھا جس کی بند آنکھوں سے نمی نکل آئی
"یہ کیا ؟۔”
وہ حیرت سے اپنی جیری کو دیکھنے لگا اس نے سر نہیں اُٹھایا تھا جیسے پہلی بار اپنی آنسو نکلنے پر شرمندگی ہوئی ہو
"تم تو نفرت کرتے تھے اسامہ مجھ سے تم نے ہی کہا تھا آئی جسٹ بلڈی ہیٹ یو ۔۔۔۔۔”
"شششش تم کب سے ہر چیز کو سریس لینے لگی ۔”
وہ اب اس کا چہرہ اُٹھا کر اس کی نمی کو صاف کرکے بولا
"مجھے تو اچھی طرح جانتی ہو صبح اتنا شاہد مجھے میرے پیدا کرنے والوں نے نہیں جانا پھر بھی یہ کہہ رہی ہو کہ میرے منہ سے نکلا نفرت کا لفظ اس سے ثابت کرتا کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں نہیں صبح مجھے اظہار کرنا ہی نہیں آتا اس میں تھوڑا کوڑا ہوں مگر اگر میرے دل نے دھڑکنا شروع کیا ہے اگر میں زندگی میں لوٹا ہوں تو صرف تمھاری وجہ سے ۔”
صبح مسکرائی اور اس کے دھاڑی والے گال کو چھوا
اور اس کی ٹائی کو پکڑ کر دیکھا
"ایک بات بتاو وہ جو تمھیں فون کرتی تھی لڑکی اس نے تمھارا پیچھا چھوڑ دیا ۔”
اسامہ نے ناسمجھی سے دیکھا
"کیا مطلب کس کی بات کررہی ہو ۔”
"صبح سے کوئی بھی چیز چھپ نہیں سکتی وہ یونی کی فلیو ۔”
"ہاں ہاں تو ۔۔۔۔نہیں تمھاری برتھ ڈے سے پہلے اس کی مسڈ کال آئی تھی مگر میں نہیں اُٹھائی اس کے بعد حیرت کی بات ہے اس نے کیا ہی نہیں ۔”
” کیونکہ اس معلوم ہوگیا تھا تم میرے ہزبنڈ ہو ۔”
"تم نے کیا کیا ؟؟۔اسامہ کا حیرت سے منہ کھولا
"بس اتنا بتایا اسامہ کی میں بیوی ہوں آپ کون بول رہے ہو پہلے تو وہ بولی تمھاری آواز بچوں جیسی ہے کون سا مزاق ہے میں نے ساری سٹوری سُنا دی اور پھر اس کے بعد آواز نہیں آئی ۔”
وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا
"او گاڈ صبح تب ہی کہو وہ مجھے اتنے عجیب نظروں سے کیوں دیکھ رہی تھی وہ کیا پورا سکول اور میں پتا نہیں لگا سکا کیونکہ مجھے اپنے مزاج کی وجہ سے لگا ۔”
"ویسے ہیڈ اینڈ شولڈر سے سر دھونے لگے ہو کہ خشکی کم محسوس ہوئی ۔”
"تمھارا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔”
اس نے صبح کے بال بگاڑے ، اس نے اسامہ کو مارنا شروع کردیا
"ارے ارے ۔”
"مجھے یاد آیا تم نے مجھے بہت تنگ کیا اس کے بدلے یہ لو ۔”
تیزی سے مکا مارنے لگی
"پاگل ہوگئی لڑکی کوئئ مینٹل ہاسپٹل بھی نہیں ہے ۔”
وہ اس جیرئ سے بچنے کے لیے بھاگا کیونکہ اس کے مکے بہت بھاری تھی
•••••••••••••••


