مختصر کہانیاں

Man dare ishq Episode 35 part 2 سب کو اکھٹا کر لیا…

Man dare ishq
Episode 35 part 2
سب کو اکھٹا کر لیا تھا ظاہر ایک طرف چکی دوسری طرف ویمپ تو اکیلے کھیلنے میں کون سا مزا تھا ہیری صاحب تو اپنے صبح میڈم کے ساتھ جبکہ دوسری طرف سب لڑکیاں اسامہ دی کوچ کے ساتھ بڑا ہی کوئی عجیب سا سین تھا صبح کو سپورٹ کرنے والوں کی تعداد لڑکے جبکہ اسامہ کے ہاں لڑکیاں
"ہار جاو گی صبح !! ابھی بھی سوچ لو ۔”
"میں نے کیا کہا ہے تیاری پکڑو تم اپنی !!۔”
وہاں کیا جوش تھا !
"کنفیڈنس اچھا صبح ڈارلنگ بٹ اوور کنفیڈنس بالکل بھی نہیں !۔”
گیم شروع ہوچکی تھی بال ہوا میں اچھالا گیا جسے نور صبح کیچ کر کہ اسامہ کو پاس کرتئ باونس کرنے لگی
اسامہ تیزی سے مڑا جبکہ نور صبح نے ایک نظر اسے دیکھا تو بائے طرف ہوئی مگر وہ بھی چکی تھا وہ بھی اس طرف آیا اور باونس کیے بال کو کھینچ کر مڑا نور اب اس کے پیچھے بھاگی دل کررہا تھا اس کے سیاہ کالے بال کھینچ کر بال لے لیں اسامہ نیٹ کے قریب آیا اور اسے پھینکنے لگا کہ صبح جی اپنے پانچ فٹ پانچ انچ کی ہائٹ میں لمبی سے جمبپ ماری اور بال کو ہاتھ سے مار کر دوسری طرف کیا
"شٹ !!۔”
نور صبح اس طرف جانے لگی مگر اسامہ نے فورن بال آچُک لیا اور باونس کرنے لگا نور صبح پکڑتی کہ وہ تین بار باونس کر کے اُٹھا لیتا
پھر دوسری طرف آکر وہ باونس کر کے گھوم رہا تھا وہ پہلے رُکی پھر دائے جانب آکر وہ اسامہ کی پُشت پہ آئی اور سامنے پیر رکھا وہ ہیچھے ہوا تھوڑا سا لڑکھڑایا صبح نے پھرتی سے بال لی اور باونس کر کے تیزی سے اپنے گول کی طرف بھاگی اور پھر صبح میڈم
بال نیٹ کے اندر دال چکی تھی
"یس !!۔”
وہ خوشی سے اچھلی اور اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا یہ مسکرا کیوں رہا ہے اسے عجیب لگا وہ اسے دیکھے جارہی تھی جب اسامہ صاحب نے تیزی سے بال اُٹھائی اور آنکھ مار کر تیزی سے بال باونس کر کے اپنے سائڈ کے طرف گئی اس کا منہ کھل گیا اس نے اسے ہپنوٹایز کیا تھا وہ اس کے پیچھے دوری مگر اب وہ اسے بال کو پکڑنے کا موقع نہیں دیں رہا تھا
"کم آن صبح یو کین ڈو اٹ ۔”
ہیری نے نعرہ لگانا ضروری سمجھا کیونکہ صبح نے اس کو کچا چبا دینا تھا ربیکا جوس کا گلاس تھامے حیرت سے ان دونوں کو کھیلتا ہوا دیکھنے لگی پھر ہیری کو دیکھا
"یہ سب کیا ہورہا ہے ۔”
"نور صبح نے سر کو چیلنج دیا ایک پوانٹ اس کا اچکا ہے دیکھو کیا ہوتا ہے ۔”
"واٹ یہ آخر ہو کیا رہا ہے ۔”
صبح اسامہ کو سائڈ سے گزرنے لگی تو وہ پیچھے ہوا
"یار اتنا میری باہوں میں آنے کو شوق ہے تو صبر کر جاو مگر مجھے ڈیسٹرکیٹ تو نہ کرو ۔”
وہ اس کو کہہ کر باونس کرنے لگا
"یہی باہیں کاٹ ڈالوں گی اگر آپ نے مزید کوئئ بکواس کی ۔”
وہ غصے سے اس کے سامنے آئی بال لینے
"ہاے ظالم منکوحہ ۔”
وہ جمپ لگاتا دور سے ہی بال پھینک چکا تھا اور بال نیٹ کے اندر چلی گئی اور پھر لڑکیوں کی ہوٹنگ ایک پوانٹ اسامہ دی چکی کو مل چکا تھا
•••••••••••••••••
وہ سفائر کو پریم میں ڈال کر اپنا بیگ سائڈ پہ رکھ کر اس کو کھلے مسکراتے منہ کو ہنس کر دیکھنے لگی
"کیا دیکھ رہا ہے میرا بے بی کیوں مسکرایا جارہا ہے سفو جانو ماما اب فارغ ہوگی ماما کے ساتھ پارک جائے گا ماما کی جان ۔۔۔۔”
ایک دم سے اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے مڑ کر دیکھا دین کھڑا ہوا تھا وائٹ شرٹ اور بلیو جینز میں آنکھوں میں چشمہ لگائے وہ ثمرن کو نہیں مسکراتے ہوے اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تھا جو اس وقت امیرالڈ گرین فراک میں بالوں میں اسی رنگ کا ہیر کیچ لگائے اپنی ہم رنگ آنکھوں سمیت بہت پیاری لگ رہی تھی
"ماما کی نہیں ڈیڈی کی جان !!۔”
ثمرن ایک دم پیچھے ہوئی کیونکہ دین سے بازو اس کا مس ہوا تھا وہ جھک سفائر کو اُٹھا چکا تھا اور اسے چومنے لگا اور وہ بابا کی آغوش میں آکر ہنستے ہوے دین کے گردن میں اپنا منہ دیں کر ہو ہو والی آوازیں نکال رہی تھی
"میری بیٹی کو ایسے کیوں کپڑے پہناتی ہو کہ اسے میری بھی نظر لگ جائے ۔”
وہ سنیجدگی سے بولا تھا پیار کی خشبو تو محسوس نہیں ہورہی تھی دین ایسا ہوجائیں گا اس نے کھبی سوچا نہیں تھا وہ جلدی سے اپنا بیگ اُٹھا کر پارک کی سائڈ کی طرف بڑھی یہ دوہا کا تھیم پارک تھا اور وہ جب کھبی آپ سیٹ ہوتی یا ڈپریشن میں چلی جاتی تو وہ صبح یا جسمین کو لے کر جاتی ان پانچ مہینوں میں جب سے سفائر ہوئی تھی اسے جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا کیونکہ دین اس کا اتنا خیال رکھتا تھا اتنی توجہ کہ ان پانچ مہینوں میں کوئی ٹینشن چھو کر نہیں گزری
تھی پر اب اسامہ کی خاطر دین نے اسے کھڑی کھڑی سُنائی تھی دین نے سفائر کو دیکھا جو اب دین کی گلاسس کو چھیڑ رہی تھی
"ماما کو منانے کا طریقہ بتاو یار میری موشم ناراض ہوئی وی اچھی نہیں لگ رہی ۔”
"ائی ائی !!
"یہ کیا ہے ائی ائی صبح بھی تمھیں کیا عجیب آوازیں سُناتی ہیں اب ماسی کو پتا چلا ابھی تک صلح نہیں ہوئی بس پھر بابا کی خیر نہیں اس لیے ہنسو نہیں میری جان اور بابا کی مدد کرو ۔”
وہ سفو کی نھنھی سی ناک چومتے ہوے بولا اور وہ اپنی بڑی بڑی بابا جیسے آنکھوں کو حیرت سے دیکھنے لگی اب بابا کیا کریں گے ۔
•••••••••••••••••••••••••••
تین پواینٹس صبح کے اچکے تھے جبکہ اسامہ دی چکی حیرت کے طور پر ابھی ایک نمبر پہ تھے صبح کی خوشی کو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا وہ تمسخر مسکراہٹ سے اسامہ دی چکی کو دیکھنے لگی اور زبان نکال کر اس کا مزاق بنایا مگر وہ تو بس مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا نہ غصہ تھا نہ ہی اپنے ہارنے کی پریشانی تھی بس وہ مسکرا کر دوبارہ سے بال کو بوائنس کرنے لگا اور پھر اس کو گزر کر بال پھینکنے لگا کہ صبح نے جلدی سے اچھلی کر مارنا چاہا مگر اسامہ نے بال پھینکی ہی نہیں بلکہ نیچے کر ٹرک کیا اگر دو پواینٹس صبح کو مل گئے تو وہ ہار جائے گی پتا نہیں وہ جیت گئے مگر وہ ایک بار پھر چکی کو کھو دیں گی
وہ اپنے غصے میں بھول رہی تھی اس کا دوست جس کو آئے صرف چار دن ہوئے تھے وہ اب ایک بار پھر چلا جائے گا وہ رُک گئی ایک بار پھر اسامہ نے پواینٹس حاصل کر لیے مگر اسے حیرت ہوئی نور کیوں رُک گئی
وہ مڑا تو وہ اب اسے دیکھ رہی تھی اسامہ نے محسوس کیا کچھ ہوا ہے وہ بال اُٹھا کر بوائنس کرتا اس کی طرف بڑھا
"کیا ہوا ؟۔”
منہ سے بولا نہیں تھا ابرو سے اشارہ کیا تھا آنکھوں میں نمی آرہی تھی وہ کمزور پڑ رہی تھی اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے اپنے دل کو ڈپتئ وہ تیزی سے بال پکڑ چکی تھی اور اپنے نیٹ کی طرف بڑھی
"نور کیا کررہی ہو اسامہ اپنے لفظوں کا پکا انسان ہے وہ چلا جائے گا ۔”
"نور وہ نہیں جائے گا وہ ایسے تنگ کررہا ہے تم جیت کے دکھاو !!۔”
ایک دم سے دماغ اور دل کی جنگ شروع ہوگئی تھی
اور اسی جنگ میں اسامہ نے اس سے بال پھرتی سے لیا اور تیزی سے ایک فاصلے پہ آکر بال پھینکا اور پھر جیت اسامہ دی چکی کی ہوگئی نور نے جیت جانا تھا مگر وہ جیت ابھی گئی تھی کیونکہ اس کا اسامہ جیت گیا تھا عورت کی جیت تو اسی میں ہوتی وہ اس کی محبت میں اپنا آپ ہار دیتی ہے اور یہاں واقعئ جیت نور کی ہوئی تھی
اسامہ خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
ساری لڑکیاں تیزی سے اُٹھی اور چلانے لگی اسامہ پاگلوں کی طرح اچھلا جیسے اس نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو مگر وہ اب نور کو ڈیٹ پہ لے کر جائے گا اب رش کافی ہوگیا تھا ہیری بھاگتا ہوا صبح کے پاس آیا
"تم نے اتنا اچھا کھیلا نور کیا ہوا تھا کوئی بات ہوئی ہوگی ورنہ تم بالکل جیتنے والی تھی ۔”
وہ کچھ کہے بنا وہاں سے چلی گئی
•••••••••••••••••••••••••
"کہاں بھاگی جارہی ہو !۔”
وہ مڑی تو دین پرائیم میں سفائر کو لائے اس کے پیچھے آیا
"میں کہاں بھاگ رہی ہو ۔۔”
"سفائر پریشان ہورہی تھی اس کی ماں کہاں ہے ۔”
"سفائر جب اپنے بابا کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ پریشان نہیں ہوتی ۔”
وہ تیز لہجے میں کہتے ہوے غباروں کی طرف بڑھی اور ان میں سے خیریدنے لگی اور پھر وہ ایک طرف گئی جہاں ایک غریب بچہ کھڑا حسرت سے ان غباروں کو دیکھ رہا تھا یہ چیز ثمرن سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی اس نے بڑھ کر اسے دیا
"یہ لو سویٹ بوئی !۔”
ثمرن مسکرا کر بولی
"میں ۔”
وہ عربی میں بولا تھا
"یس آپ کے لیے لو نا اور یہ لو پیسے چندا اچھا سا بڑا سا جوسی برگر کھانا ٹھیک ہے ۔”
اس کو غبارہ پکڑا کر وہ مڑی دین مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا وہ نروٹھے پن سے نظریں گھماتی دوسری طرف بڑھنے لگی اسے سفائر کی فکر نہیں تھی کیونکہ وہ دین کے پاس تھی اور وہ فل حال دین کے پاس جانا نہیں چاہتی تھی
"ویسے تمھاری ماما کا دل کتنا سوفٹ ہے میرا دل ایک سکینڈ میں پگھلا دیتی ہے میری موشم !! اب ڈیڈی ہر حال میں منائیں گے اپنے پرشین لفظوں سے ۔”
•••••••••••••••
وہ لاکر بند کرنے لگی تو اچھلی اسامہ کھڑا ہوا تھا
"جان بوجھ کر ہاری ہو نا !!۔”
وہ ایک دم شاک سے اسے دیکھنے لگی پھر تیزی سے مڑ کر بولی
"نہیں !!!۔”
"جھوٹ مت بولو صبح اور تم کھبی جھوٹ بولتی نہیں ہو ہاری ہو نا جان بوجھ کر ۔”
"کیا بکواس کررہے ہیں آپ ۔”
"تم مجھے کھونا نہیں چاہتی تھی مگر یقین جانو یہ کھیل مجھے میٹر نہیں کرتا تھا میں پھر بھی تم سے دستبردار نہیں ہونے والا تھا ۔”
"آپ جیت گئے تو جائے منائے اپنا جشن مگر ایسی فضول بتائیں مت کریں ۔”
"میں کیسے جیت سکتا ہوں کیونکہ میری صبح ہاری تھی میں تو ہارا ہوں صبح ۔””
"بس کردیں نہیں ہوں میں آپکی صبح پیچھا چھوڑ دیں میرا ۔”

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/