مختصر کہانیاں

من_در_عشق_باشما_ہستم_از_ثمرین_شاہ #Episode_37 #P…

من_در_عشق_باشما_ہستم_از_ثمرین_شاہ
#Episode_37 #Part_2
وہ نیٹ پہ بال گرا کر مڑی تو رُک گئی قاسم کھڑا ہوا تھا لمبا اونچا مہنگے لباس میں ملبوس ہینڈسم قاسم
اس کے سامنے موجود تھا
"ابھی چھٹیاں ہوئی تمھاری پھر سے یونی کھل گیا ۔”
"تم یہاں کیا کررہے ہو !۔”
صبح کے ماتھے پہ بل پڑ گئے
"سویٹی بھول کیوں جاتی ہوں کہ یہاں کی ٹیچر میری بسٹ فرینڈ ہیں ۔”
"بیسٹ فرینڈ یا گرل فرینڈ ؟۔”
صبح آنکھیں گھماتے ہوے جھک کر بوٹل اُٹھانے لگی
"کیوں تمھیں جیلسی ہوتی ہیں ۔”
صبح ہنس پڑی
"یار شہزادے جاو اپنا کام کرو میں تمھاری شکل دیکھنا نہیں پسند کرتی اور جیلسی ۔”
"ہاں سمجھ سکتا ہوں یہی چیز تو تمھاری پسند ہے مغرب کے روپ میں چھپا تمھارا مشرقی حسُن تمھاری حیا اور تمھاری کم عمر مجھے تمھارا دیوانہ کرتی ہے ۔”
"ہاں بالکل صحیح کہا ساری باتوں کی ایک بات میری حیا مجھے اجازت نہیں دیتی اور رہی بات جیلسی کی
تو میں صرف اپنے شوہر کے لیے ہوسکتی ہوں کیونکہ اس کا حق صرف مجھ پر ہے میں یہاں غیروں کے لیے پوزیسو یا جیلس ہنو !
"ہاں تو یہ شوہر بنے کا حق مجھے دیں دوں نا ۔”
"سوری میں حق کسی کو بہت پہلے دیں چکی ہوں ۔”
وہ کہنا چاہتی تھی پھر یہ بھی تھا آپی کو پتا چل جائے گا مگر نہیں جب وہ شادی شدہ ہے تو وہ کیوں انکاری ہوے
"سوری میری بہن نے یہ بات چھپائی ظاہر ہے تم بھی پوچھو گے پھر وہ ہے کہاں لیکن بتاتی چلو میں میرڈ ہوں !!
ایک دم قاسم کو جھٹکا لگا
"واٹ !!! ۔”
"جی اور یہ ابھی کی بات بھی نہیں ہے چھ سال پہلے کی اور میرا نکاح دین بھائی کے کزن سے ہوا تھا ۔”
"تم مزاق کررہی ہو میرے سے جان چھڑانے کا اچھا طریقہ ہے صبح اور مجھے ایسے مزاق نہیں پسند ۔”
وہ تو جیسے غصے میں آگیا
"مجھے مزاق پسند ہیں بہت زیادہ مگر بات اگر میری پرسنل پہ آتی تو اس میں کوئی مزاق نہیں کرتی اور آپ کو مسئلہ ہے تو میں ابھی اپنے شوہر سے ملاقات کروادیتی ہوں ۔”
"سٹاپ اٹ نہ کرنے کے لیے تم اتنا گر سکتی ہو جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے صبح مگر اب نہیں بہت تم سے بات کر لی مگر اب میری ماں اور بہن آئے گی تمھاری بہن سے رشتہ مانگنے اور تمھاری بہن انکار ہرگز نہیں کریں گی ۔”
"اب میرا جوتا اُٹھ گیا نا قاسم تو تمھاری بدنامی ہوگی میں لحاظ نہیں کروں گی میں نے بتایا نا میری شادی ہوگئی ہے ہوگئی ہے کتنی بار بتاو اور بولا بھی ہے کہ میں ملواتی ہوں پھر بھی تمھیں لگ رہا ہے ۔”
وہ اب غصے سے بولی تھی پھر تیزی سے اسامہ کے کمرے کی طرف بڑھی مگر پتا چلا وہ کب کا چلا گیا
وہ اب اپنا فون نکال کر کال ملا رہی تھی اس نے فون کاٹ دیا اس کو غصہ آیا
"فون اُٹھاو !!!۔” اس نے ٹیکسٹ کیا وہ جیسے سینڈ کا بٹن دبانے لگی فوراً میسج آگیا
"میٹنگ میں بزی ہوں بعد میں بات کرتا ہوں !۔”
وہ اب پُرسکون ہوگئی ویسے بھی شادی ہوچکی دوسرا آپی اس پر زبردستی نہیں کریں گی تھوڑا غصہ ہوگی پھر مان جائے گی
••••••••••••••••••
"آپ جواب کیوں نہیں دیں دیتی ۔”
ثمرن نے حیرت سے ان کو دیکھا پھر پریشانی سے ان کے لائے چیزوں کو وہ سوچ نہیں سکتی تھی ان کے خاندان والے صبح کو اپنے بہو منانے کے لیے تیار ہے مگر وہ فیصلہ کیسے ایک دم کرتی
"مجھے بہت خوشی ہوئی آپ لوگ آئے مگر ہماری حیثیت کا تو پتا ہے آپ کو ۔”
"دیکھو ثمر ہم نے تم سب کو اپنا فمیلی ممبر سمجھا کھبی بھی یہ نہیں سمجھا تم ہمارے پائلیٹ کی بیوی ہو بلکہ اپنی بیٹی کی طرح مانا ہے اسی طرح صبح کو بھی اور میرے بیٹے کی پسند ہے وہ تو میں چاہوں گی میرے بیٹے کی خواہش پوری کروں آخر اکلوتا ہے ۔”
شہزادی مینا نے اس کا ہاتھ تھاما ثمرن مسکرا پڑی
"یہی چیز تو مجھے آپ کی پسند ہے حنبل ہیں آپ خیر
مگر مجھے دین سے بات کرنے دیں اس کے بعد صبح سے بھی پوچھی گی ۔”
"ہاں پوچھو کیوں نہیں صبح ہماری جان کی تو بہت اہمیت ہونی چاہئیے مگر ثمرن بہن نہیں ایک ماں ہونے کے ناطے سوچنا اور اسے پیار سے بتانا کہ وہ انکار نہ کرسکے حالانکہ معلوم ہے مجھے وہ ہرگز نہ نہیں کریں گی ۔”
وہ سر ہلانے لگی
وہ اب نور کے آنے کا انتظار کررہی تھی اور جب وہ آئی تو ثمرن کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکل پارہا تھا صبح ہی دین آسٹریلیا کے لیے نکل چکے تھے وہ بھی نہیں تھے کہ بتاسکتی لیکن اسے دین کا جواب معلوم تھا
"صبح !!۔”
صبح جو ان کے ساتھ لنچ کررہی تھی چونکہ
"جی آپی میں آج بہت محسوس کررہی تھی آپ بہت خاموش تھی ۔”
"نہیں تو تمھیں ایسا کیوں لگا ۔”
"بس کیا دین بھائی سے پھر تو لڑائی نہیں ہوگی ۔”
وہ اب چاول کا چمچ منہ ڈال کر ہلکہ سا گھورتے ہوے بولی
"ایسی بات نہیں ہے دین اور ہمارئ لڑائی میری اور تمھاری طرح نہیں ہوتی ،اس کو چھوڑو یہ بتاو آئی نو ابھی تم صرف آٹھارہ سال کی ہو پر میں چاہتی ہوں ۔”
"میں شادی شدہ ہوں ہاں اگر آپ نے میری رخصتی کروانی ہیں تو ضرور نور صبح کا نام اسامہ سے لگ چکا ہے اب وہ قیامت تک نہیں ہٹے گا آپی ۔”
وہ سمجھ گئی تبھی تیزی سے بولی ثمرن کو جھٹکا لگا اور وہ بالکل ساکت ہوگئی وہ ابھی تک اسامہ کو نہیں بھلا پائی تھی
"نورِ صبح !!۔”
لب واہ ہوے تو بس یہی کہا گیا
"تم ابھی تک وہ شخص یاد ہے تم ابھی تک اس شخص کو نہیں بھولی ۔”
"یہ اس شخص کیا ہوتا ہے آپی اور میں کھبی بھولی ہی نہیں اسے تو مجھے ایک دم کیسے یاد آنے والی بات بے معنی ہوگی کوئی بیوی اپنے شوہر کو بھی بھول سکتی ہے بھلا ۔”
"نور صبح !!!!!۔”ثمرن غصے سے اُٹھی صبح جبکہ پُرسکون بیٹھے رہی
"صبح صبح !!۔”
صبح ایک دم چونک پڑی ثمرن اسے پکار رہی تھی
"جی آپی ۔۔”
وہ کچھ زیادہ ہی سوچ میں نہیں جانے لگی
"میں یہ کہہ رہی ہوں شادی کے بارے میں کیا خیال ہے ۔”
"تم کچھ نہیں کہو گی انھیں جو کچھ کروں گا وہ میں کروں گا ایسے دل میں نفرت اور پھیل جائے گی کہ میں نے تمھارا دماغ خراب کیا ہے ورغلایا ہے میں چاہتا ہوں وہ پورے دل اور بھرپور آمادگی سے یہ رشتہ قبول کریں ۔”
"جی آپی یہ کوئی عمر ہے ویسے ۔”
"میری بھی اس عمر میں ہوئی تھی ۔”
وہ اسے کہنے چاہتی تھی آپ سے بھی چھوٹی عمر میں ہوگئی میری مگر خاموش رہی
"آئی نو تم ابھی ینگ ہو مگر اگر اچھا رشتہ مل رہا ہو تو کیوں ہاتھ سے گنوائے سویٹ ہارٹ ۔”
اس نے صبح کا ہاتھ پکڑا
"آپی فل حال میں نے کرنی نہیں ہے فل حال کیا ؟ مجھے کرنی ہی نہیں ہے میں بس پڑھائی میں کنسیٹریٹ کرنا چاہتی ہوں اور اپنا کریر بنانا چاہتی ہوں ۔”
اس نے گویا بات ہی ختم کردی مگر ثمرن کو یہ وقت ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ویسے بھی یونی سے تھکی ہاری بھی پوچھنا ٹھیک نہیں تھا وہ آہستہ آہستہ اس کے دل میں یہ بات ڈالے گی
••••••••••••••••••
سب کے قہقہے چھوٹ پڑے صبح کلاس میں نہیں آئی تھی اور اسامہ دی چکی کا غصے سے بُرا حال ہوگیا تھا بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کا جو کھبی باز آجائے اور اسے بخش دیں اصل میں واقعہ یہ ہوا تھا کہ اسامہ دی چکی میٹنگ اور اپنے دیگر کاموں میں بھول گئے کہ ان کی بیوی ویمپ نے انھیں پاگلوں کی طرح فون کیا تھا اور انھوں نے بعد میں کال کرنے کو کہا جب وئ فارغ ہوجائے پر بیچارے چکی رات کے بارہ بجے فارغ ہوے اور سو گئے ایسی بے ہوشی والی نیند چکی کو کھبی نہیں آئی اور ان کا بیچارا فون بج بج کے پاگل ہوگیا پھر مسز چکی یعنی ویمپ کو اپنا اگنور ہوا برادشت نہ ہوا تو صبح فجر کے وقت پہنچ گئی اپنے گھر
وہاں دیکھا اسامہ دی چکی ابھی تک ہوش و خرو سے بیگانہ تھے اور نور صبح کو آگ لگ گئی یہاں وہ رات سے بے چین تھی کہ آپی کچھ کر نہ دیں یہاں چکی مزے سے دُنیا سے بے نیاز سو رہا تھا صبح میڈم نے اپنے بیگ سے سامان نکالا اور پھر اپنا کام کر کے یہ جا وہ جا اب ہوا یہ جن اسامہ دی چکی اُٹھے انگڑائی لے کر انھوں نے جب ٹائیم دیکھنے کے لیے فون اُٹھایا تو ٹائیم کی تو پروا نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں میں لگی تیز ریڈ نیل پالش نے ان کے ہوش اُڑا دیں پھر انھوں نے دیکھا نہ صرف ہاتھ بلکہ پیروں میں بھی بڑی ہی خوبصورتی سے لگائی
"یہ کیا !!!۔”اس نے اپنے ہاتھوں کو وحشت زدہ ہوکر دیکھا چہرہ تو محترم کا ایسا سفید ہوا جیسے کوئی چڑیل دیکھ لی ہو تیزی سے اُٹھ کر جلدی سے واش روم بھاگے مگر اُدھر سے بھی اس کی چیخ نکلی کیونکہ صبح میڈم اس کے بال بلیو کر چکی تھی اس کے خوبصورت کالے بال اس وقت نیلی رنگ کے تھے یا اللہ یہ کون سی آفت آئی تھی دماغ نے کام کیا تو آفت کا نام فوراً دماغ میں آیا اور پھر جب اسامہ دی چکی کو غصہ آیا تو بس پھر ان کی سارے ہوش کی ٹاٹا بائی باہی ہوجاتی ہے مگر اب تو اپنے کام کا سٹریس بھی ایسا حاوی تھا کہ بس پھر نہ نیل پالش صاف کرنے کا سوچا بس سیدھا شاور لیا کہ کم سے کم یہ صاف کیا جائے مگر پچاس بار شاہو کرنے کے باوجود بھی نہیں ہو پایا پھر مزید ہائپر ہوے اور جیسے سکول میں داخل ہوے تو اسامہ دی کوچ کو ایک نئے روپ میم دیکھ کر سب کی ہنسی کو بریک لگا اور اسامہ دی چکی کے غصہ کا بریک فیل اب چکی صاحب اس جیری کو ڈھونڈ رہے تھے
جو ایک سڑھیوں میں بیٹھی ربیکا کو قصہ سُنا رہی تھی ربیکا نے جب اسامہ کو دیکھا تو اس کا منہ کھل گیا پھر ان محترمہ کی ہنسی چھوٹی جبکہ صبح دی جیری مڑی اور غصہ سے بھرپور ٹام کو دیکھ کر وہ ڈر گئی یہ سکول کیسے آگیا
"تمھیں تو میں !۔”
وہ تیز سے اوپر بھاگی اسامہ بھی پیچھے بھاگا ربیکا کو اب جھٹکا لگا یہ کیا اسامہ سر نور کے پیچھے کیوں بھاگے
"اب میں تمھیں قسم سے صبح نیچے اُٹھا کر گراؤں گا ۔”
"پہلے پکڑ تو لو !! بلیو ہیر چکی !!۔”
"صبح !!!۔”
وہ تیزی سے چھت کی طرف بڑھی اور اسامہ نے بھی اپنی سپیڈ بڑھائی مگر جیسے وہ پہنچی چھت کا دروازہ بند تھا اسامہ نے اسی وقت پکڑ لیا
"یہ کیا کیا ہے تم نے ۔”
وہ غصے سے دھاڑا وہ ہنسنے لگی پاگلوں کی طرح
"ہنسنا بند کرو !!۔”
وہ چلایا اسے کوئی پروا نہیں تھا اس وقت اس کی دُشمن سامنے تھے جو بدقسمتی سے اس کی بیوی بھی تھی
"ویسے کیوٹ لگ رہے ہو ہزبنڈ !!!۔”
"صبح یہ کیا بے ہودگی ہے !!۔”
"میں نے ایسا کیا کیا ۔” وہ معصومیت سے آنکھیں نکلاتے ہوے بولی وہ اب چوہیا کے بجائے بلی لگ رہی تھی
"تم نے میرا فون نہیں اُٹھایا ۔”
"فون نہیں اُٹھانے پر تم یہ کرو گی !!۔”
وہ اب غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا
"آئی نو بلیک میں تم ڈیشنگ لگتے تھے مگر بلیو صحیح کورین ایکٹور !!۔”
"میں نا تمھیں سڑھیوں سے گرادوں گا ۔”وہ اب اس کو پکڑ کے گرانے لگا
"پھر جان آپ کی ہی جائے گی ۔”
بات تو اس نے سو فیصد سچ کہی تھی
"جلدی سے میرے بالوں کا کچھ کروں !۔”
"غصہ میں کام کریں دماغ کا نیل پالش صاف کرنے کے لیے پرفیوم بھی استمعال کرسکتے تھے دوسرا بال شیمپو سے صاف بھی نہیں ہونا تھا اس کا سپیشل ریمور ہے ۔”
"جو بھی جلدی چلو ارباز کی کنویکیشن میں ایسے نہیں جاسکتا ۔”وہ اپنے بالوں کو کھینچتے ہوے بے بسی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولا
"نہیں ہزبنڈ بہت اچھے لگ رہے ہیں ہاو کیوٹ نیل پالش ۔”
اس نے اسامہ کا ہاتھ اُٹھا کر پیار سے پکڑا اور پکس لینے لگی اسامہ نے کھینچا اور پھینکنے لگا
"نہیں نہیں !!۔”
"اگر تم نے ابھی میرا کچھ نہیں کیا تو تو میں ایک تو تمھارا فون کو گرادوں گا اور دوسرا سب کے سامنے اُٹھا کر لے جاوں گا ۔”
"ہاو کیوٹ پھر پیچھے گانا لگائے گا تینو لے کے میں جاوا گا دل دیں کے میں آوا گا ۔”
اسامہ اُٹھانے لگا
"اچھا اچھا چلے !! انسان مزاق کرتا ہے اور حد ہوگئی
وہ فون لے کر نیچے اُتری وہ بھی اُترا مگر یہ منظر کسی سے محفوظ نہیں رہا تھا اور وہ تھی الف !!
••••••••••••••••
رات کا پہر تھا وہ لوگ چھپکے سے فائونڈیشن کے اندر داخل ہوے اندر جانے کی اجازت بھی گارڈ سے ملی جو چند پیسے میں ہی بُک چکا تھا ان سب کے ہاتھوں میں بڑے بڑے سلینڈر اور مٹی کے تیل کی بوتل تھی اور پھر وہ اپنا کام جلدی سے کرنے لگے اور جب کام ہوگیا تو باہر نکل کر ماچس سے اپنا کام کر کے یہاں سے بھاگ اُٹھے اور پھر پورا ایشا فائونڈیشن کی نئی عمارت کو دس منٹ کے اندر اندر آگ نے اسے اپنے لپیٹ میں لے لیا
جس میں موجود دو ٹیچرز اور ایک کھانا پکانے والی ماسی وہاں رہ رہی تھی کیونکہ دو کمرے وہاں بن چکے تھے اور آہستہ آہستہ نئی آنے والے فرد کو وہاں بھیجا جارہا تھا مگر اس آگ نے ان کو اپنے اصل مقام پہ پہنچا دیا
•••••••••••••••••
اسامہ دین کے ساتھ بیٹھا کونویکیشن سرمنی میں بیٹھا ہوا تھا جب اس کا فون بج اُٹھا اس نے دیکھا اور شور سے بچنے کے لیے وہاں سے اُٹھ کر باہر آیا
"ہاں علی بولو !!۔”
اور پھر پورے دس منٹ میں اسامہ کی ایسی حالت کے جیسے زمین اس کے پیروں تلے سے نکل گئی ہو ۔
اسے لگا اس کو سانس نہیں آئے گی بات برسوں کی محنت اور کڑور کا پیسہ لگنے کی بات نہیں تھی بات تھی کہ اس کے اس ایکشن سے تین انسانی جان چلی گئی اور اسامہ اس بات کو سوچتے ہوے لڑکھڑا اُٹھا
"یہ کام ملک نے کیا ہے نا ۔”
سُرخ آنکھوں اور پتھریلے لہجے میں بولا تھا
"پتا نئیں سر پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ گیس لیک ہوگئی تھی ۔”
"شٹ آپ کوئی گیس لیک نہیں ہوئی پولیس کی تفتیش کرواوں میں کل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں اور میں بتارہا ہوں ساتھ والی عمارت کے ایک ایک فرد وہاں سے باہر نہ جائے سٹاف بھی اگر ایسا نہ ہوا تو بس پھر اپنا انجام دیکھ لینا سمجھے !!۔”
وہ چیخا تھا اندر سے داخل ہوتے لوگ اس کو حیرت سے دیکھنے لگا فون بند کر کے اس نے اپنا چہرہ تھاما
"امی ائیم سوری !! امی میری وجہ سے ۔”
اس کی آنکھوں سے پانی نکل آئے وہ جو اچھا کام کرنے جارہا تھا آج اس کو یہ اچھا کام بہت مہنگا پڑ گیا تھا
سر کو تھامتے ہوے وہ تیزی سے اندر بڑھا تاکہ دین کو خبر دیں سکے
•••••••••••••••••••

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/