منتخب غزلیں

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا بس اب بقدرِ …

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا
بس اب بقدرِ غزل اس سے نسبتیں رکھنا

یہ کس تعلقِ خاطر کا دے رہا ہے سراغ
کبھی کبھی ترا مجھ سے شکایتیں رکھنا

میں اپنے سچ کو چھپاؤں تو روح شور مچائے
عذاب ہو گیا میرا سماعتیں رکھنا—!!!

فضائے شہر میں اب کے بڑی کدورت ہے
بہت سنبھال کے اپنی محبتیں رکھنا

ہم اہلِ فن کو بھی گمنامیاں تھیں راس بہت
ہوا ہے باعثِ رسوائی شہرتیں رکھنا

قصیدہ خوانی کرو، اور موج اڑاؤ کہ شوق
تمام کارِ زیاں ہے صداقتیں رکھنا—!!!

(رضی اختر شوق)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/