کردار کا امتحان | Khabrain Group Pakistan

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں، اور کوئی بھی قوم اس مشکل وقت میں کیسے ردعمل کا اظہار کرتی اور اس چیلنج سے کس انداز میں نبرد آزما ہو تی ہے ،یہ رویے اس قوم کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اگر قوم مشکل وقت میں اتحاد ویگانگت ،ہم آہنگی ،ایمان داری اور خدا خوفی کے طرز عمل کا مظاہرہ کرتی ہے تو ہی اس قوم کا مستقبل بہتری کی نوید لاتا ہے۔ اور جو قومیں اس مشکل وقت میں بھی حرص ، لالچ ،جھوٹ اور دھوکا دہی سے باز نہیں آتیں ان قوموں کے مقدر میں تباہی اور بربادی لکھ دی جا تی ہے ۔بد قسمتی سے مجھے آج یہ کہنا پڑ رہا ہے ہمارے ملک پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہم بطور قوم مشکل حالات میں ناکام ہو تے نظر آرہے ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں جب ہمیں معاشی مشکلات ،سرحدی خطرات ،کرونا وائرس کی تباہ کا ریاں اور ٹڈی دل کے حملوں کا سامنا ہے تو ایسے وقت میں بھی خود غرض اور لا لچی عناصر عوام کا خون نچوڑنے سے باز نہیں آرہے اور نہایت ہی افسوس ناک طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کرونا سے متعلقہ ادویات کی شدید کمی ہے اور جو ادویات بازار میں مل رہی ہیں ان کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئیں ،ان حالات میں اس سے شرمناک حرکت اور کوئی ہو نہیں سکتی ۔ کرونا وائرس سے لڑنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز قومی ہیرو ہیں جبکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے منافع خور عوام کے دشمن ہیں جو انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔حکومتی اعلانات اوربعض کارروائیاں انسانیت سے عاری منافع خوروں کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہی ہیں اس لئے انکے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جائیں۔ وبا کے پھوٹتے ہی مارکیٹ سے ماسک غائب ہو گئے جس کے بعدسینیٹائزر، ادویات اور ہر قسم کا ضروری ساز و سامان غائب ہونے لگا جو اب کئی گنا قیمت پر بلیک میں دستیاب ہے ۔ حال ہی میں ڈیکسامیتھازون نامی دوا کے موثرہونے کی خبر آتے ہی کیمسٹ مافیا نے ڈرگ انسپکٹروں کی ملی بھگت سے اسے بھی غائب کر ڈالا جو افسوسناک ہے۔موت کے ان سوداگروں کا محکمہ صحت کے بعض اہلکاروں سے معاہدہ ہے اور انھوں نے اب آکسیجن سلنڈر بھی مارکیٹ سے غائب کر دئیے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال بھی اس لوٹ مار میں کسی سے پیچھے نہیںجبکہ متعلقہ حکام اس سلسلہ میں خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں ۔جب حکومت ٹیکس وغیرہ کے لئے ہوٹلوں اور دیگر کاروبار کی درجہ بندی کر سکتی ہے تو نجی ہسپتالوں کی درجہ بندی کر کے مختلف خدمات کے نرخ مقرر کیوں نہیں کئے جا رہے ہیںتاکہ ہسپتال منہ مانگے دام مانگ کر عوام کو بلیک میل نہ کر سکیں۔ بہت سے ممالک میں ہسپتالوں کو استقبالیہ اور دیگر واضح مقامات پر مختلف خدمات کی ریٹ لسٹ آویزاں کرنے کا پابند کیا گیا ہے مگر پاکستان میں ایسا نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجوہات سب کو معلوم ہیں۔
امریکہ ،برطانیہ، چین اور دیگر ممالک میں ایسی ادویات سامنے آ رہی ہیں جو ہسپتال میں داخلہ اورویکسین کی ضرورت ختم کر دیں گی اور مریض گھر پر ہی دوا کے استعمال سے صحت یاب ہو سکیں گے مگر پاکستان میں ہیلتھ فارما ،ہاسپٹل اور ڈاکٹرز مافیابہتے گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے اس کی بھرپور مزاحمت کریں گی۔حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدہ کا روائی کرنے کی ضرورت ہے ۔یہاں میں حکومت کی توجہ ایک اور اہم مسئلہ پر بھی مرکوز کروانا چا ہوں گا ۔جب سے ملک میں کرونا وائرس کی وبا آ ئی ہے تب سے ملک میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن اس کے باوجود بعض نجی سکولز بچوں سے پوری فیسیں وصول کررہے ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو تنخواہیں بھی نہیں دی جا رہی ہیں ،جبکہ بچوں کے والدین کو فیسیں نہ دینے کی صورت میں سکول سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں ۔یہ نہایت ہی افسوس ناک صورتحال ہے ۔سکول بند ہونے سے جہاں مالکان کو مشکلا ت ضرور درپیش آئی ہیں وہاں ان کے خرچے بھی کم ہو ئے ہیں۔ سکول اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے خرچے بھی کم ہو ئے۔ نجی تعلیمی اداروں کے یو ٹیلیٹی بلز بھی نہ ہو نے کے برابر رہ گئے ہیں لیکن اس کے باجود طلبا ءاور اسا تذہ سے زیادتی کی جا رہی ہے ۔سکولوں کی اکثریت آن لائن ٹیچنگ کے نام پر ڈرامہ کر رہی ہے۔اس مافیا کو معیاری تعلیم یا طلباءکی تربیت سے کوئی غرض نہیں یہ منافع کے لئے ملک و قوم کے مستقبل سے کھیل رہی ہے مگر انھیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔نجی سکول تعلیم کے علاوہ اب یونیفارم ، کتابیں اور کاپیاں بھی مہنگے داموں زبردستی فروخت کرتے ہیں کیونکہ یہ کہیں اور دستیاب نہیں ہوتیں یا مخصوص دکانوں پر کئی گنا قیمت پر ملتی ہیں اور تو اور بعض سکول تو طلباءکو مہنگے داموں حجام کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں اور انھیں کہیں اور سے بال تک کٹوانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہر سال نصاب بھی بدلا جاتا ہے تاکہ کوئی پرانی کتابیں استعمال نہ کر سکے۔ نجی سکول قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے ، عدالتی احکامات کے باوجود رعایت نہیں کرتے اور انکے مالکان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیںکیونکہ کبھی انھیں کنٹرول کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے تعلیم ملک کا سب سے منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جبکہ معیارتعلیم صفر ہو گیا ہے۔جیسا کہ میں نے کالم کے ابتدا میں بات کی تھی کہ بطور قوم یہ ہمارے کردار کا امتحان ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسا مستقبل تیار کرنا چاہتے ہیں ۔بطور قوم ہم کون ہےں ؟ کیا اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ہم واقعی اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حق دار ہیں ؟ کیا ہم ان مشکل حالات میں بھی اپنی لالچ کو پس پشت ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں ؟ کیا ہم خوف خدا سے مکمل طور پر عاری ہو چکے ہیں ؟ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم ایسا طرز اختیار کرکے اور مشکل وقت میں بھی اپنے ہم وطنوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر کہیں اللہ تعالیٰ کی نا راضگی کو دعوت تو نہیں دے رہے ؟ ہمیں اس حوالے سے خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہاں پر میں حکومت سے بھی کہنا چاہوں گاکہ عوام نے بڑی امیدوں کے ساتھ اس حکومت کو مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا لیکن ایسا نظر آ رہا ہے کہ حکومت عوام کی مجبو ریوں سے فائدہ اٹھانے والے مافیا کو لگام ڈالنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ خدا را حکومت بیانات اور دعوﺅں سے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور ان ما فیاز کے خلاف ٹھوس ایکشن لے ،اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرکے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭
بشکریہ