منتخب غزلیں

ویرانہ جگمگاتے تھے امیدوں کے فلک بوس محل عظمتِ ش…

ویرانہ

جگمگاتے تھے امیدوں کے فلک بوس محل
عظمتِ شوق کے مینار فروزاں تھے کبھی
کتنے گونجے ہوئے جذبات کے کاشانے تھے
کتنے جاگے ہوئے رنگین شبستاں تھے کبھی
کہکشاں تھی بھی تو پامالِ روِش تھی اُس کی
چاند تاروں سے حسیں اُس کے گلستاں تھے کبھی
کتنے نوعمر حسیں، کتنے جواں سال حسیں
زلف کھولے ہوئے ہر سمت خراماں تھے کبھی
دل کے ویرانے پہ اے دوست نظر کرتا جا!

صبح ہنستی ہوئی رکھتی تھی گلستاں میں قدم
رات اوڑھے ہوئے تاروں کی رِدا آتی تھی
آرزوؤں کے گُل آریز دریچوں سے سدا
گنگناتی ہوئی جنّت کی ہوا آتی تھی
جیسے مستی میں کسی زلف کی کُھل جائے گِرہ
اِس طرح جھوم کے گھنگھور گھٹا آتی تھی
دل کے سوتوں میں کوئی ساز بجا کرتا تھا
دھیمی دھیمی کسی چھاگل کی صدا آتی تھی
دل کے ویرانے پہ اے دوست نظر کرتا جا!

چاندنی رات میں اجڑی ہوئی اِس منزل پر
آج اک درد کا پرتَو سا نظر آتا ہے
ڈوبتے تاروں سے شبنم کے خنک اشکوں میں
تھرتھراتا ہوا اک عکس اتر آتا ہے
ڈوب جاتی ہے نظر درد کے طوفانوں میں
پھر سے ماضی کا ہر اک نقش ابھر آتا ہے
آج مدّت سے ہے خاموش یہ نغموں کا دیار
گنگناتا ہوا اب کون اِدھر آتا ہے؟
دل کے ویرانے پہ اے دوست نظر کرتا جا!

(جاں نثار اختر)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/