منتخب غزلیں
( غیـر مطبــوعـہ ) جتنا تھا اتنے میں گزارا کر بیٹ…

( غیـر مطبــوعـہ )
جتنا تھا اتنے میں گزارا کر بیٹھا
اب یہ لگتا ہے کہ خسارہ کر بیٹھا
دنیا سے تو اک دوری پہلے سے تھی
اک دن میں خود سے بھی کنارہ کر بیٹھا
ماضی کے لمحوں کو سمو کر اشکوں میں
میٹھی یادوں کو بھی کھارا کر بیٹھا
مرجانا ہی بہتر تھا جن لمحوں میں
ان لمحوں میں زیست گوارہ کر بیٹھا
ایک فریبی سکھ کے اشارے پر "راجیش"
جانے کس- کس دکھ کو اشارہ کر بیٹھا
( راجیش ؔ ریڈی )
— with Rajesh Reddy.

