منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعـہ ) آنکھ مِری جانتی ہے مرتبہً شب …

( غیــر مطبــوعـہ )

آنکھ مِری جانتی ہے مرتبہً شب
واقفِ اَسرار ہے یہ سوختہً شب

جان کو آتی ہے اب یہ گہری خموشی
کس نے کِیا بند ہے یہ ناطقہً شب

یاد کہاں اس کو کون کتنا جلا تھا
تیز ہی اتنا کہاں ہے حافظہً شب

کان جسے دیکھتے ہیں آنکھ ہے سنتی
ہے یہ سکوتِ سیہ وہ غلغلہً شب

موت کی آغوش میں نہ بند کر آنکھیں
روشنیً لا میں دیکھ معجزہً شب

ایک چراغِِ سیاہ پوش ہوں میں بھی
سر ہے کِیا میں نے بھی تو معرکہً شب

صبحِ ابد کے دریچے ہورہے ہیں وا
کھول رہا ہے قبور مقبرہ ً شب

صبح کو تھا سامنے پہاڑ سا جو دن
کاٹ لیا کرتے کرتے تذکرہً شب

لوگ چراغوں میں ڈھونڈتے ہیں حل اِس کا
اِتنا بھی آساں نہیں یہ مسلہً شب

سامنے ہوجایے اب جو رات میں دیکھا
خواب کی تعبیر سے ہو خاتمہً شب

( رفیـــق راز ؔ )

— with Rafiq Raaz.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/