منتخب غزلیں
بگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤ نگاہوں میں ہیں بل…
بگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤ
نگاہوں میں ہیں بلاوے تو ابروؤں میں تناؤ
نگاہوں میں ہیں بلاوے تو ابروؤں میں تناؤ
گجر بجا ہے سہانا، مگر کرو نہ بہانہ
جھکا قمر نہ دکھاؤ، بجھا چراغ جلاؤ
اگر گھنا ہو اندھیرا، اگر ہو دُور سویرا
تو یہ اُصول ہے میرا، کہ دل کے دیپ جلاؤ
اُجڑ رہے ہیں گھرانے، بدل رہے ہیں زمانے
لپک رہے ہیں دیوانے ، اُتار ہو کہ چڑھاؤ
خدا کے لب پہ ہنسی ہے، خدائی جھوُم رہی ہے
تمھاری بات چلی ہے، میری حسین خطاؤ
اِدھر شباب کا مس ہے، اُدھر شراب کا رس ہے
قدم قدم پہ قفس ہے، ندیم دیکھتے جاؤ
(احمد ندیم قاسمی)

