منتخب غزلیں

کیا دعائے فرسودہ حرفِ بے اثر مانگوں تشن…

کیا دعائے فرسودہ حرفِ بے اثر مانگوں
تشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوں

دُھوپ دُھوپ چل کر بھی جب تھکے نہ ہمراہی
کیسے اپنی خاطر میں سایۂ شجر مانگوں

آئنہ نوازی سے کچھ نہیں ہوا حاصل
خود بنے جو آئینہ اب وہی ہنر مانگوں

اِک طرف تعصب ہے اِک طرف ریاکاری
ایسی بے پناہی میں کیا سکوں کا گھر مانگوں

میری زندگی میں جو بٹ نہ جائے خانوں میں
مِل سکے تو میں ایسا کوئی بام و در مانگوں

لمحہ لمحہ تیزی سے اب زمیں کھسکتی ہے
خود سفر کا عالم ہے کیا کوئی سفر مانگوں

بے طلب ہی دیتا ہے جب ظہیرؔ وہ سب کُچھ
کِس لیے میں پھر اُس سے جنسِ معتبر مانگوں

ظہیرؔ غازی پوری

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/