منتخب نظمیں

شدت کے موسم مجھے موسموں کی شدت پسند ہے ہم گرما…

شدت کے موسم

مجھے موسموں کی شدت پسند ہے
ہم گرما کے وسط میں ملتے تھے
اور شدت کے جاڑوں میں ملتے تھے
اور دونوں کی سرحد پر جدا ہو جاتے تھے
جیسے مرغابیاں
سرما کے آغاز میں میدانوں کا رخ کرتی ہیں
اور ابابیلیں ، گرمی کے آغاز میں
جھیلوں اور چشموں کو کھوجتی ہیں
ہم دونوں بھی ایک دوسرے کو تلاشتے ہیں
اور جیسے ابابیلیں ، بارش کی دعا مانگتی ہیں
ہمارے لبوں پر ملن کے لیے ، حرفِ دعا لرزتا ہے
کاش ہم دونوں پکھیرو ہوتے
سپید برف جیسے بگلے
خاکستری مرغابیاں
یا مٹیالی ابابیلیں
تو ملن میں کوئی شے مانع نہ ہوتی
ایک ساتھ اڑتے اڑتے ، بادلوں کو چھو آتے
نہ تم ساحل ہو نہ میں موج
موج کو ساحل کے ملن سے کون روک سکتا ہے
ہم آدمی ہیں
(سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں )
مجھے شدت کی سردی اور شدت کی گرمی پسند ہے
اور موسلا دھار بارشیں
ٹوٹ کر برستی بہار اور خزاں
مجھے تم پسند ہو
کیونکہ تم دنیا کے تمام مردوں سے زیادہ پُر جوش ہو
اور تمہیں میں پسند ہوں
کیونکہ میں دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ گرم جوش ہوں
مجھے نفرت کی مار ڈالنے والی انتہا
اور محبت کی پاگل کر دینے والی انتہا پسند ہے
مجھے شدت پسند ہے
خواہ وصال کی ہو
یا ہجر کی

ثمینہ راجا

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/