منتخب غزلیں
( غیــر مبطـوعــہ ) ہر ایک حـرف ہو امکان ! تیرے ج…

( غیــر مبطـوعــہ )
ہر ایک حـرف ہو امکان ! تیرے جیسا ہو
مِــــــری کتــاب کا عنوان تیرے جیسا ہو
ہزار بار گـــــــــوارا ہے پارســــــائی کو
جو میـری ذات پہ بہـــتان تیرے جیسا ہو
میں عمـر قیــد بصد ناز کاٹ سکتی ہوں
مِرے نصیــب میں زندان تیرے جیسا ہو
مجھے قبـــول ہے ، بارِ دِگــر عنایت ہو
مگر یہ شرط ہے' احسان ترے جیسا ہو
شـفا بھی دیتا ہے یہ معجـــزہ مَحبّت کا
کســی مریـض کا ایمـان تیرے جیسا ہو
( نیـنا ؔ عـادِل )
— with Naina Adil.


