بقدر پیمانہ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا گر یہ ف…

گر یہ فریب نہ ہو پیہم، تو دم نکل جائے آدمی کا
…..
علامہ جمیل مظہری کا یومِ وفات
July 23, 1980
علامہ جمیل مظہری جن کا اصل نام سید کاظم علی تھا یکم جنوری سنہ 1905 کو پٹنہ کے محلہ مغل پورہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ انہوں نے تعلیم پٹنہ کے علاوہ کلکتہ میں حاصل کی اور تلاش معاش میں کلکتہ کی خاک چھانی پھر پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ¿ اردو سے وابستہ ہوئے اور وہیں سے سبکدوش ہوئے ۔ 23 جولائی سنہ 1980 کو مظفر پور کے موضع بھیکن پور میں وفات پائی ۔
جمیل مظہری بنیادی طور پر نظموں کے شاعر ہیں لیکن وہاں بھی تغزل نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے اسی لئے ان کی غزلوں میں بھی تشکیک کا غبار نظر آتا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کافی تعداد میں مرثیے بھی لکھے ۔ ان کے شعری مجموعے ’عکس جمیل ‘٬’ فکر جمیل اور’ عرفان جمیل ‘ کے نام سے شائع ہوئے تھے ۔
…
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
….
ہم محبت کا سبق بھول گئے
تیری آنکھوں نے پڑھایا کیا ہے
….
ہونے دو چراغاں محلوں میں کیا ہم کو اگر دیوالی ہے
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور کی دنیا کالی ہے
….
بہ قدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا
…..
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بو لہبی
…
بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا
بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو
….
انہی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھے ہیں وہ آنسو بھی
جو اکثر دھوپ میں محنت کی پیشانی سے ڈھلتے ہیں
…..
آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں
پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے
…..
اے سجدہ فروش کوئے بتاں ہر سر کے لیے اک چوکھٹ ہے
یہ بھی کوئی شان عشق ہوئی جس در پے گئے سر پھوڑ لیا
…..
نہیں افسوں ہی کو افسانے کی منزل معلوم
غلط آغاز کا ہوتا ہی ہے انجام غلط


خراج عقیدت
Wah