شعر لکھنے کا فائدہ کیا ہے اُس سے کہن…

اُس سے کہنے کو اب رہا کیا ہے
پہلے سے طے شدہ محبت میں
تُو بتا تیرا مشورہ کیا ہے
سرخ کیوں ہو رہے ہیں تیرے کان
میں نے تجھ سے ابھی کہا کیا ہے
آنکھیں مَل مَل کے دیکھتا ہوں اُسے
دوپہر میں یہ چاند سا کیا ہے
میرا ہم عصر صبح کا تارا
میرے بارے میں جانتا کیا ہے
سوچتے ہونٹ، بولتی آنکھیں
حیرتی کا مکالمہ کیا ہے
شور سا اُٹھ رہا ہے چار طرف
کچھ گِرا ہے مگر گِرا کیا ہے
میں یہاں سے پلٹنا چاہتا ہوں
اے خُدا تیرا مشورہ کیا ہے
جسم کے اس طرف ہے گُل آباد
پھاند دیوار، دیکھتا کیا ہے
میری خود سے مفاہمت نہ ہوئی
تُو بتا تیرا مسئلہ کیا ہے
اس لیے بولنے پہ ہوں مجبور
آپ سوچیں گے سوچتا کیا ہے
یہ بہت دیر میں ہوا معلوم
عشق کیا ہے مغالطہ کیا ہے
میں تو عادی ہوں خاک چھاننے کا
تُم بتاؤ کہ ڈھونڈنا کیا ہے
عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا
تیرا میرا معاملہ کیا ہے
میں بنا تھا کھنکتی مٹی سے
میرے اندر سکوت سا کیا ہے
جنابِ عباس تابش
از:-عشق آباد ص ۷۰/۷۱
اِنتِخاب
سفیدپوش


Subhaan ALLAH, very very very butiful ????