تسہیلِ "شکوہ” از اقبال پہلی قسط: یہ وہ شہر آفاق ن…

یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ
کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں
اب میں یہ بتانا چاہونگا کہ میں جن الفاظ کے معانی لکھونگا وہ صرف اور صرف میری اپنی تحقیق پر مبنی ہیں، ان میں بلا شبہ غلطی کی گنجائش ہے اور چونکہ میں شاعر کے انتقال کے لگ بھگ ساٹھ سال بعد پیدا ہوا ہوں اسلئے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ شاعر کی مراد تک پہنچ پاؤنگا کیونکہ یہ کلام ہر سمجھنے والے کیلئے ایک الگ در وا کرتا ہے۔
خاکسار : قاضی محمد حارث
شکوہ:
کیوں زیاں کار بنوں سُود فراموش رہُوں؟
فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصہء درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اے خدا ! شکوہ ء اربابِ وفا بھی سن لے
خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم
پُھول تھا زیب چمن ، پر نہ پریشاں تھی شمیم
شرطِ انصاف ہے ، اے صاحبِ الطافِ عمیم
بُوئے گُل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
ہم کو جمیعتِ خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ امت تری محبوب کی دیوانی تھی
مشکل الفاظ کے معانیٰ:
زیاں کار: نقصان کرنے والا
سود فراموش: نفع سے غافل
فکرِ فردا: کل کی یعنی مستقبل کی فکر
محوِ غمِ دوش: ماضی کے غم میں مصروف
ہمہ تن گوش: پوری توجہ سے
جرات آموز: جرات سکھلانے والی
تابِ سخن: بولنے کی طاقت
خاکم بدہن: میرے منہ میں خاک ہو۔ یہ اپنی گستاخی کا اقرار کرتے وقت بولا جاتا ہے۔
بجا: درست
شیوہ تسلیم: فرمانبرداری کی عادت
سازِ خاموش: وہ ساز جو بج کر کئی دلوں کو بہلا سکتا تھا لیکن خاموش ہو کر بے کار پڑا ہوا ہے
معمور: بھرے ہوۓ
نالہ: شکوہ
معذور: عذر والے یعنی مجبور
اربابِ وفا: وفادار ساتھی
خوگرِ حمد: تعریف کا عادی
گلہ: شکوہ
ازل: ہمیشہ ہمیشہ
ذاتِ قدیم: ایسی ذات جسکا کوئی مبدا نہ ہو
زیبِ چمن: چمن کی شان
پریشاں: بکھری ہوئی
شمیم: اوس
صاحبِ الطافِ عمیم: جس کی مہربانیاں عام ہوں
بوۓ گل: پھول کی خوشبو
جمعیتِ خاطر: دلی سکون کا باعث
جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بشکریہ قاضی محمد حارث

