منتخب غزلیں

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں شکیل …

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
شکیل بدایونی

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں
مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہے
مری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں
مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
انہیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں
وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں
نہ وہ شان جبر شباب ہے نہ وہ رنگ قہر عتاب ہے
دل بے قرار پہ ان دنوں ہے ستم یہی کہ ستم نہیں
نہ فنا مری نہ بقا مری مجھے اے شکیلؔ نہ ڈھونڈھئے
میں کسی کا حسن خیال ہوں مرا کچھ وجود و عدم نہیں


Related Articles

3 Comments

  1. ساحر لدھیانوی نے ایک گیت لِکھا تھا ۔۔۔

    اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

    جس میں تاج محل اور تاج محل بنوانے والے مغل حکمران کے بارے میں تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔۔۔ وہ گیت بےحد مقبول ہُوا۔۔۔مگر بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ شکیل بدایونی نے بھی تاج محل کے متعلق اپنے منفرد تخیّل کا اظہار کیا تھا ۔۔ ، ۔۔۔۔
    ۔۔۔شکیل بدایونی کے اشعار بھی ملاحظہ کیجئے۔

    شکیل بدایونی۔۔۔۔۔
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
    اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے
    ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی
    جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں
    سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم
    مرحلے پیار کے آساں بھی ہیں دشوار بھی ہیں
    دل کو اک جوش ارادوں کو جوانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    تاج اک زندہ تصور ہے کسی شاعر کا
    اس کا افسانہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
    اس کے آغوش میں آ کر یہ گماں ہوتا ہے
    زندگی جیسے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
    تاج نے پیار کی موجوں کو روانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    یہ حسیں رات یہ مہکی ہوئی پر نور فضا
    ہو اجازت تو یہ دل عشق کا اظہار کرے
    عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے
    کس کی ہمت ہے محبت سے جو انکار کرے
    آج تقدیر نے یہ رات سہانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علاوہ ازیں
    ایک یادگار مستطیل کا معتبر حصہ
    شکیل بدایونی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موسیقار نوشاد علی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گلوکار محمد رفیع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اداکار دلیپ کمار
    اور شکیل بدایونی
    اس”مستطیل”کو آج بھی ناقابِلِ فراموش تسلیم کیا جاتا ہے۔
    شکیل بدایونی نے ویسے تو بےشمار یادگار اشعار تحریر کئے ہیں مگر
    مغل اعظم
    آج بھی اسی طمطراق کے ساتھ موجود ہے ۔ مغل اعظم کی شاعری آج بھی دلکش ہے
    شکیل بدایونی کی شاعری”جام” کی محتاج نہیں تھی۔اس کا اظہار انہوں نے اپنے شاعری میں مختلف حوالوں کے ساتھ کیا ہے حکیم خلیق الرحمٰن

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/