ہوتا ہے مہوشوں کا وہ عالم ترے حضور جیسے چراغِ مُرد…
جیسے چراغِ مُردہ سرِ بزمِ شمعِ طُور
آ کر تری جناب میں اے کارسازِ نُور
پلکوں میں منہ چھپاتے ہیں جھینپے ہوئے غرور
آتی ہے ایک لہر سی چہروں پہ آہ کی
آنکھوں میں چھوٹ جاتی ہیں نبضیں نگاہ کی
رفتار ہے کہ چاندنی راتوں میں موجِ گنگ
جیسے سُبُک، مہین، رواں، ریشمی پھوار
لہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھار
اور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشار
چہکی جو تُو چمن میں، ہوائیں مہک گئیں
گُلبرگِ تَر سے اوس کی بوندیں ٹپک گئیں
تجھ سے نظر ملائے، یہ کس کی بھلا مجال؟
تیرے قدم کا نقش حسینوں کے خدّ و خال
اللہ رے تیرے حُسنِ ملَک سوز کا جمال
جب دیکھتی ہیں خُلد سے حوریں ترا جمال
پرتَو سے تیرے چہرۂ پرویں سرشت کے
گھبرا کے بند کرتی ہیں غُرفے بہشت کے
مجھ رندِ حُسن کار کی میخواریاں نہ پوچھ
اِس خوابِ جاں فروز کی بیداریاں نہ پوچھ
کرتی ہے کیوں شراب خِرَدباریاں نہ پوچھ
بے ہوشیوں میں کیوں ہیں یہ ہشیاریاں نہ پوچھ
پیتا ہوں وہ جو زلف کی رنگیں گھٹاؤں میں
کِھنچتی ہے اِن گھنی ہوئی زلفوں کی چھاؤں میں
(جوشؔ ملیح آبادی)


wah wah