منتخب غزلیں
اُس کے دشمن ہیں بہت آدمی اَچّھا ہوگا وہ …

اُس کے دشمن ہیں بہت آدمی اَچّھا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسّم نہ بُجھے
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی
جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا
میرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اُس کی
اُس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا
نداؔ فاضلی
از:-شہر میں گاؤں (کُلّیات) ص ۳۱۷
اِنتِخاب
سفیدپوش



Hifza Ali Sherazi
Umda
شاندار
Wah
شاندار