منتخب غزلیں

بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر شود بے پردہ ہر پوشید…

بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضور خواجہ ما را
حساب من زچشم او نہاں گیر
(اے میرے رب! روز قیامت) یہ جہان پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اس دن مجھے میرے آقا و مولا کے حضور رسوا نہ کرنا اور میرا نامہ اعمال آپ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا)

علامہ اقبال ”ارمغان حجاز“


Related Articles

2 Comments

  1. سُبحان اللہ
    تحقیق بتاتی ہے کہ حضرت علاّمہ نے فی الحقیقت درج ذیل رباعی تحریر فرمائی تھی۔۔۔
    تُو غنی از ہر دوعالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    گر تو می بینی حسابم ناگزیر
    از نگاہ مُصطفیٰ پنہاں بگیر
    ۔۔۔۔۔۔جناب اقبال کی یہ رباعی ڈیرہ غازی خان کے ماسٹر محمد رمضان تک پہنچی تو ان پہ عجیب کیفیت طاری ہو گئی اور یہ کیفیت بہت دن رہی۔۔۔۔چند روز کے بعد محمد رمضان صاحب نے حضرَت علاّمہ کی خدمت میں بہتی آنکھوں کے ساتھ ایک خط تحریر کیا۔۔جس میں اس رباعی کے متعلق اپنا دل کھول کے رکھ دیا۔۔۔اور گذارش کی کہ یہ رباعی انہیں عطاء کر دی جائے تو ان کی آخرت آسان ہو جائے گی۔۔۔۔حضرَت علاّمہ محمد اقبال رح انکار نہ فرما سکے اور ایک جوابی مکتوب ماسٹر صاحب کے خط میں دئیے گئے پتہ پر روانہ فرما دیا اور یہ رباعی ماسٹر صاحب کو عطاء فرما دی۔۔۔۔اسی لیے یہ رباعی علاّمہ کے کلام میں ناپید ہے۔۔مگر حضرَت علاّمہ نے اسی مفہوم کی ایک اور رباعی تحریر فرمائی اور اسے ارمغان حجاز میں شامل کیا۔۔۔جو اردو کلاسیک کی جانب سےجاری کی گئی ہے۔ حکیم خلیق الرحمٰن

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/