منتخب غزلیں

ساغر صدیقی : دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں ب…

ساغر صدیقی : دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں

زردار توقّع رکھتا ھے نادار کی گاڑھی محنت پہ؟؟؟
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں

کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں

بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑھتی دیکھی ھے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں

بے رنگ شفق سی ڈھلتی ھے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ھے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
ساغر صدیقی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/