منتخب غزلیں

کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زِندَگی کیا بو…

کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زِندَگی
کیا بوجھ تھی کہ سر سے اتاری ہے زِندَگی

مَقتَل تھے گام گام یہ رستہ طویل تھا
اپنے لَہو سے ہم نے سنواری ہے زِندَگی

کرتی ہے خود تلاش یہ کانٹوں کا رستہ
اس واسطے سکون سے عاری ہے زِندَگی

قائم ہے ایک فاصلہ دونوں کے درمیاں
شَک اور یقیں کے ساتھ اب جاری ہے زِندَگی

میں جانتی ہوں زندگی ہے کَرب و اِضطِراب
سانسوں کے بوجھ سے بڑی بھاری ہے زِندَگی

شاہینؔ اپنی ہار پر ہے مُطمَئِن کہ بس
اِک جِیت کے لئے ہی تو ہاری ہے زِندَگی

ڈاکٹر نجمہ شاہینؔ کھوسہ

از:-اور شام ٹھہر گئی ص ۱۰۷/۱۰۸

اِنتِخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/