منتخب غزلیں
تَنہائی کو مِنہا کرنے لگتی ہُوں یاد کے مِصرعے یَک…
تَنہائی کو مِنہا کرنے لگتی ہُوں
یاد کے مِصرعے یَکجا کرنے لگتی ہُوں
یاد کے مِصرعے یَکجا کرنے لگتی ہُوں
آنکهیں اور دِل چوکنّا ہو جاتے ہیں
میں جب تُجھ سے دهوکا کرنے لگتی ہُوں
جب کانوں پر ہاتھ زَمانہ رکهتا ہے
اپنی گُونج کو دِهیما کرنے لگتی ہُوں
کیوں مُجھ کو تسلیم نہیں کرتی دُنیا!!
اِس پر خُود سے جَھگڑا کرنے لگتی ہُوں
کون ہے میرے ساتھ! مُجهے جو روکے گا
جیسا چاہُوں ویسا کرنے لگتی ہُوں
ویسے تو دُشوار ہے لیکن کاغذ پر
رَنگ سے دَشت کو دَریا کرنے لگتی ہُوں
لوگ زیادہ کام خُدا سے لیتے ہیں
اور مَیں خُود ہی سارا کرنے لگتی ہُوں
بَهاڑ میں جائیں لوگ، بُرا جب تُو بولے!!
پِهر میں خُود کو اچّها کرنے لگتی ہُوں
عِشق کی اَبجَد وہ اِک بار سِکهائے تَو
پِهر دیکهے میں کیسا کرنے لگتی ہُوں
(نیلم ملک)
***Neelam Malik***

