منتخب غزلیں

دل کی وادی میں اُتر جاتے ہیں لوگ ہائے صد افسوس مر…

دل کی وادی میں اُتر جاتے ہیں لوگ
ہائے صد افسوس مر جاتے ہیں لوگ

یوں تو کانٹوں سے گزر جاتے ہیں لوگ
اپنے سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ

پھر کہیں اُن کا ٹھکانہ ہی نہیں
وہ جو نظروں سے اُتر جاتے ہیں لوگ

وہ جو آتے ہیں کبھی ہنستے ہوئے
کر کے سب کی چشم تَر جاتے ہیں لوگ

عشق ہوتا ہے جنہیں سچّائی سے
مسکرا کر دار پر جاتے ہیں لوگ

ہو تو جاتے ہیں ہنسی سے بھی اُداس
آنسوؤں سے بھی نکھر جاتے ہیں لوگ

جیسے بالکل ہی شناسائی نہ ہو
سامنے سے یوں گزر جاتے ہیں لوگ

ہنستے رہتے ہیں بظاہر تو ندیم
اور اندر سے بکھر جاتے ہیں لوگ

جناب ریاض ندیم نیازی

از:-تُمہیں اپنا بنانا ہے ص ۱۲۲/۱۲۳

انتخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/