منتخب غزلیں
اُداسی کو بیاں کیسے کروں مَیں خموشی کو زباں کیس…
اُداسی کو بیاں کیسے کروں مَیں
خموشی کو زباں کیسے کروں مَیں
خموشی کو زباں کیسے کروں مَیں
بدلنا چاہتا ہُوں اِس زمیں کو
یہ کارِ آسماں کیسے کروں مَیں
بھروسہ ہی نہیں مجھ کو کسی پر
کسی کو رازداں کیسے کروں مَیں
شبِ دیجور ہے اور سوچتا ہُوں
فلک کو کہکشاں کیسے کروں مَیں
کسی جنگل کا طائر ہُوں مَیں اَے دل
گُلوں میں آشیاں کیسے کروں مَیں
مُنیر اِس عہدِ آشفتہ سری میں
خیال جسم و جاں کیسے کروں میں
مُنیر نیازی
از:-ایک اور دریا کا سامنا
کُلیاتِ مُنیر نیازی ص ۶۶۶
انتخاب
سفیدپوش

