منتخب غزلیں

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا ۔ ابوالحسنات…

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا ۔ ابوالحسنات حقی

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا
پھر اس کے ظلم و ستم کا جواب میں نے دیا

وہ ایک ڈوبتی آواز بازگشت کہ آ
سوال میں کیا تھا جواب میں نے دیا

وہ آ رہا تھا مگر میں نکل گیا کہیں اور
سو زخم ہجر سے بڑھ کر عذاب میں نے دیا

اگرچہ ہونٹوں پہ پانی کی بوند بھی نہیں تھی
سلگتے لمحوں کو سیل آب میں نے دیا

کھلا ہے پہلوئے پرجوش بے محابا آ
اک اور مشورۂ انقلاب میں نے دیا

یہ مجھ سے گریہ بے باک کیوں نہیں ہوتا
تو اپنے درد کو خود پیچ و تاب میں نے دیا

نخیل و کشت کو سیراب میں نہیں کرتا
زمیں کو قرض مگر بے حساب میں نے دیا

بدن خود اپنی ہی تجسیم کر نہیں پاتے
قریب آیا تو آنکھوں کو خواب میں نے دیا


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/