عکسِ خیال
راشد کی علامتی شاعری کو اُن کی لفاظی قرار دیا گیا …

راشد کی علامتی شاعری کو اُن کی لفاظی قرار دیا گیا جب کہ راشد تشکیک زدہ معاشرے کو نئے رجحانات اور افکار سے آشنا کرنا چاھتے تھے۔ راشد نے نئے افکار کے حامل ، اِرتقا اور جدت سے ھم آھنگ اور باعمل افراد پر مشتمل معاشرہ تشکیل دینے کی بات کی۔
چلا آ رھا ھُوں سمندروں کے وصال سے
کئ لذّتوں کا ستم لیے
جو سمندروں کے فسُوں میں ھیں
مرا ذھن ھے وہ صنم لیے
وھی ریگ زار ھے سامنے
وھی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئینے
کسی دستِ غیب سے ٹُوٹ کر
کہیں تارِ جاں میں بکھر گئے
ابھی آ رھا ھُوں سمندروں کی مہک لیے
وہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میں
ھے ھزار رنگ سے خواب ھائے خُنک لیے
چلا آرھا ھُوں سمندروں کا نمک لیے
”ن.م.راشد“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

