منتخب غزلیں
خرد کی بات سچی ہی سہی، مانی نہ جائے گی یہ تیری یاد…
خرد کی بات سچی ہی سہی، مانی نہ جائے گی
یہ تیری یاد ہے، دل سے بہ آسانی نہ جائے گی
یہ تیری یاد ہے، دل سے بہ آسانی نہ جائے گی
یہ ممکن ہے کبھی دل کی پریشانی نہ ظاہر ہو
قیامت تک مگر دل کی پریشانی نہ جائے گی
ہزاروں بار دنیا مسکراتی آئے گی ، لیکن
تمہارے بعد میرے دل کی ویرانی نہ جائے گی
نہیں شک کاوشں ضبطِ فغاں کی کامیابی پر
مگر امڈے ہوئے اشکوں کی طغیانی نہ جائے گی
مرے چاروں طرف گہرا اندھیرا ہی سہی، لیکن
مرے ذوقِ طلب میں ہے جو تابانی،نہ جائے گی
وہ منزل جس سے تیرا کاروانِ نور گزرا تھا
کوئی بھی دور ہو اب اس کی تابانی نہ جائے گی
خزاں سے جا کے اے آزاد! کوئی اس قدر کہہ دے
ترے آنے پہ بھی میری غزل خوانی نہ جائے گی
(پروفیسر جگن ناتھ آزاد)


