شورش کاشمیری 1917-1975 اقبال سے ہم کلامی شورش کاش…

1917-1975
اقبال سے ہم کلامی
شورش کاشمیری
کل اذان صبح سے پہلے فضائے قدس میں
میں نے دیکھا کچھ شناسا صورتیں ہیں ہم نشیں
تھے حکیم شرق سے شیخ مجدد ہم کلام
گوش بر آواز سب دانش وران علم و دیں
بوالکلام آزاد سے غالبؔ تھے مصروف سخن
میرؔ و مومنؔ دور حاضر کی غزل پہ نکتہ چیں
اس سے کچھ ہٹ کر گلابی شاخچوں کی چھاؤں میں
تھے ولی اللہ کے فرزند نکتہ آفریں
ایستادہ سرو کے سائے میں تھے مولائے روم
جن کے فرمودات میں مضمر ہیں آیات مبیں
سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے حالیٔؔ درویش خو
باندھ کر بیٹھے حلقہ شبلیٔؔ عہد آفریں
میں نے بڑھ کر مرشد اقبال سے یہ عرض کی
آپ کو ہم تیرہ بختوں کی خبر ہے یا نہیں
دل شکستہ ہو کے فرمایا مجھے معلوم ہے
بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں
سلطنت لے کر خدا و مصطفی کے نام پر
اب خدا و مصطفی کی راہ پر کوئی نہیں
ہے ابھی شہباز کی غیرت پر کرگس خندہ زن
”ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں”
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
”پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں”
کون سمجھائے اندھیری رات کو آئین مہر
وائے بد بختی کہ خود مومن ہے محروم یقیں
خون دے کر خانۂ صیاد کو روشن کرو
جاؤ مشرق کے خراب آباد کو روشن کرو


