منتخب غزلیں

شاید کہ موجِ عشق جنوں خیز ہے ابھی۔ ثمینہ راجہ شای…

شاید کہ موجِ عشق جنوں خیز ہے ابھی۔ ثمینہ راجہ

شاید کہ موجِ عشق، جنوں خیز ہے ابھی
دل میں لہو کی تال بہت تیز ہے ابھی
ہم نے بھی مستعار لیا اُس سے رنگِ چشم
اپنی طرح سے وہ بھی کم آمیز ہے ابھی
پھر آبِ سرخ آنکھ سے بہتا دکھائی دے
گویا یہ دل ملال سے لبریز ہے ابھی
اک نونہالِ خواب ہے دنیا کی زد پر آج
اِس غم کی خیر ہو کہ یہ نوخیز ہے ابھی
سب ذرّہ ہائے نیلم و الماس، گردِ راہ
میرے لیے وہ چشم گہر ریز ہے ابھی
کیا جانئے رہے گا کہاں تک یہ دل اسیر
کیا کیجئے وہ شکل دلآویز ہے ابھی
دیکھا نہیں ہے کوئی بھی منظر نظر کے پاس
رہوارِ عمر، طالبِ مہمیز ہے ابھی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/