مختصر کہانیاں

بھگوڑا( قسط نمبر 8 ریاض عاقب کوہلر زیر تعمیر عمار…

بھگوڑا( قسط نمبر 8
ریاض عاقب کوہلر

زیر تعمیر عمارت کی چاردیواری سے نکل کر میں جونھی آگے بڑھا مجھے دوسر ی زیر تعمیر بلڈنگ نظرآئی اور میر ارُ خ اُسی جانب ہوگیا ۔ پولیس والوں کی آوازیں پہلی عمارت کی اند رونی جانب سنا ئی دے رہی تھیں ۔ یہ میری زند گی کاپہلاموقع تھا جب میں نے پولیس کو کسی کے کام آتے دیکھا ۔ بے شک ایسا نا دانستگی میں ہو اتھا ۔مگر ہو ا ضر ور تھا ۔
دوسر ی زیر تعمیر عما رت سے گزرتا ہو امیں اُس کے عقبی جانب نکلا اور سامنے موجود پہلی گلی میں گھس کر بجا ئے دوڑنے کے تیز قدموں سے چلتا ہو ا وہا ں سے دور جانے لگا ۔ سٹر یٹ لائیٹ کی روشنی میں گلی دور دور تک خالی دکھا ئی دے رہی تھی ۔
پے درپے حادثوںنے مجھے کسی منصو بے پر عمل درآمد کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا ۔ میں سو چتا کچھ تھا ہوتا کچھ تھا ۔ بھا رت کی سر ز مین میر ے لیے دلد ل کی حیثیت اختیا رکر چکی تھی ۔ میں اس دلدل سے نکلنے کے لیے جتنے ہاتھ پاﺅ ں مار رہا تھا اتنا زیادہ نیچے دھنستا جارہاتھا ۔ اگر ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے سید ھا اڈے پر پہنچا دیا ہوتا تو شاید اب تک میں بمبئی کی طرف گامزن ہوتا۔ بہ ہر حال یہ قانون قدرت ہے، کہ آدمی جو چاہتا ہے عموماََ اس کے برعکس نتیجہ نکلتا ہے ۔ اور جب تک رب کی مرضی تھی میر ا بھا رت سے نکلنا دشو ار تھا لیکن میں رب کی رضا پر راضی ہوتے ہوئے بھی ہاتھ پاﺅں مارنے پر مجبور تھا کہ یہی میرے بس میں تھا ۔ میں نے اپنی کوشش کرنی تھی ہاتھ پر ہا تھ دھرے بیٹھے رہنے کا مطب تھا میں نے شکست تسلیم کرلی ہے اور رب کی رحمت سے مایوسی ہوگیاہو ں ۔ جبکہ ما یو س کفر تھی اور شکست تسلیم کر لینا میر ا شیو ہ نہیں تھا ۔ میری رگوں میں گنڈہ پوری خون دوڑ رہا تھا میں کسی قیمت پر ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔
میں تیز قدموں سے چلتا اس جگہ سے دور ہٹتا جارہا تھا۔ ویسے بھی مشکل تھا کہ پولیس والے ہمارے تعا قب میں آتے ۔ یہی بہت تھا کہ ا نہو ں نے واردات ہوتی دیکھ کر اس کے خلاف ایکشن لے لیا تھا ۔ تھو ڑی دور جانے کے بعد گلی بائیںجانب مڑگئی میں جیسے ہی مڑامجھے سامنے سے دو بند ے آتے دکھا ئی دیئے ۔ اُنھیں دیکھتے ہی میں نے پہچا ن لیا ۔ ان میں سے ایک ڈرائیو ر اور دوسرا بِلّا نامی آدمی تھا ۔ با قی دوشا ید کسی اور راستے سے فر ار ہوگئے تھے ان دونو ں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور سٹر یٹ لائیٹ کی روشنی میں مجھے پہچاننے میں انھیں دیر نہ لگی۔ میرا ارادہ ہوا کہ ان کے سنبھلنے سے پہلے ان پر جاپڑوں مگر وہ دس پند رہ گز مجھ سے دورتھے کہ رک گئے اور ایک میکا نیکی عمل کے تحت اُن کے ہاتھ اپنی جیبوں میں غائب ہو ئے اور جب باہر آئے تو ہتھیا ر اُن کے ہاتھو ں میںتھے ۔ میں نے بھی بجلی کی سی سُرعت سے کوبرے سے حاصل کیا ہو ا پستول نکال کر ان پرتان لیاتھا ۔
lll
ایک عجیب سی سچوئیشن بن گئی تھی۔گولی چلانے میں جو بھی پہل کرتا اس کا اپنا بچنا محال ہوجاتاکہ مخالف نے مرتے مرتے بھی اس کاکام تمام کردینا تھا۔ نامعلوم ہم کتنی دیر اس حالت میں رہتے کہ اچانک ڈرائیور پارٹی کی پشت کی جانب دوڑتے قدموں کی آواز آئی۔ میری نظر بے اختیار اس جانب اٹھی، سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں مَیں نے بھاگنے والے دور ہی سے پہچان لیے ان کی تعداد تین تھی اور وہ پولیس والے تھے۔ انڈین پولیس سے مجھے اس مستعدی کی توقع نہیں تھی۔ آج دوسری بار بھی ان کی آمد نے مجھے ششدر کر دیا تھا۔ حیرانی کے ساتھ ساتھ میں نے محسوس کیا کہ میرے لیے خطرہ کئی گنا بڑھ گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں ڈرائیور پارٹی کو اس خطرے سے آگاہ کرتا۔ بلے نے بھی پیچھے مڑ کر آنے والوں کو دیکھ لیا اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے ہراساں آواز برآمد ہوئی۔
”مارے گئے باس یہ تو….“
اسی وقت پولیس والوں نے ہوائی فائر کیا اور بِّلے کی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئی۔
”بھاگو“ خطرہ بھانپتے ہی ڈرائیور چیخا۔ ان دونوں کے حرکت کرنے سے پہلے ہی میں یہ رسک لے چکا تھا البتہ حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے مڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور اسی طرح الٹے قدموں بھاگتے ہوئے وہاں سے دور جانے لگا۔ مگر جیسے ہی ڈرائیور نے ”بھاگو“ کا نعرہ بلند کیا۔ میں پیچھے مڑ کر پوری رفتار سے بھاگا۔ یوں بھی سپورٹس شوز مجھے بھاگنے میں مدد دے رہے تھے۔ بھاگتے ہوئے میںنے پستول کوٹ کی جیب میں منتقل کردیا تھا۔ موڑ مڑتے ہی میں پولیس والوں اور ڈرائیور وغیرہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پولیس والوں کے للکارنے کی آوازیں تواتر سے میرے کانوں میں آرہی تھیں۔ میں نے اپنی داہنی طرف کی دیوار کے جانب نگاہ دوڑائی دیوار کی اونچائی آٹھ فٹ کے قریب تھی۔ بجلی کی سی سرعت سے اچھلتے ہوئے میں دیوار پر چڑھااور اسی تیزی سے دوسری جانب اتر گیا۔ یہ موڑ کے ساتھ پہلا مکان تھا۔ میں ڈرائیور پارٹی کے موڑ مڑنے سے پہلے دوسری جانب اتر گیا تھا۔ نیچے اترتے وقت میں نے یہ احتیاط برتی کہ دیوار سے لٹک کر پنجوں کے بل نیچے کودا تاکہ کوئی آواز پیدا نہ ہونے پائے۔
سردی جوبن پر تھی اور بندکمروں میں رضائیاں اوڑھے لوگ بے فکر سو رہے تھے۔ اس شور شرابے کی آواز شاید ہی ان کے کانوں تک پہنچ پاتی۔ البتہ اس مکان میں گھسنے سے پہلے ایک خوف میرے ذہن میں ضرورجاگزین ہوا تھا کہ کہیں گھر میں کتا وغیرہ نہ ہو، کتے کی موجودی میرا بھانڈا پھوڑ دیتی اور پھر وہ گھر میرے لیے چوہے دان ثابت ہوتا، لیکن میری خوش قسمتی کہ میں اس خطرے سے بچ نکلا۔
گھر کے اندر گھسنے کا رسک بھی میں نے اس لےے لیا تھا کہ پولیس سے آگے مڈ بھیڑ ہونے کا خطرہ بھی موجود تھا۔
”ارے باس وہ پنچھی کدھر اُڑ گیا۔“ مجھے بِلّے کی متحیر آواز سنائی دی۔
”بھاڑ میں جائے۔“ ڈرائیور کی جھلاہٹ بھری آواز ابھری اور اس کے ساتھ ہی ان کے دوڑتے قدموں کی آواز دور جاتی سنائی دی۔ لمحہ بھر بعد ہی پولیس والے وہاں سے للکارتے ہوئے گزرے۔ اس اثنا میں مَیں نے وہاں سے حرکت نہیں کی تھی اور اپنی چڑھی ہوئی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یکدم دوڑ لگانے کی وجہ سے میرا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔ اگر زیادہ فاصلے تک مجھے بھاگنا پڑا ہوتا تو میری سانسیں دوڑتے دوڑتے ہی ہموار ہو گئی ہوتیں۔
پولیس والوں کے قدموں کی آواز جیسے ہی معدوم ہوئی۔ میں مکان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ ایک درمیانے سائز کا چھوٹا سامکان تھا۔ سامنے تین چھوٹے کمرے ان کے آگے برآمدہ دائیں بائیں کچن اور باتھ روم( ان کے سائز کی وجہ سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کچن اور باتھ روم ہو ں گے، بعد میں چیک کرنے پر میرا اندازہ درست نکلا)گلی کی جانب بھی دیوار کے ساتھ ایک اکلوتا کمرہ دکھائی دیا۔ جس طرح ہمارے ہاں بیٹھک وغیرہ کے لیے بناتے ہیں اس کا مقصد بھی شاید کچھ اسی طرح کا ہو۔
ایک سرسری جائزہ لے کر میں اس اکلوتے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میرے گمان کے موافق دروازے کی کنڈی باہر سے لگی ہوئی تھی۔ میں نے آہستہ سے کنڈی کھولی اور دروازہ کھو ل کر اندر داخل ہو گیا ۔ اندر گھپ اندھیرا تھا۔ اپنے پیچھے دروازے کو بھیڑ کر میں بجلی کے بورڈ کی تلاش میں دروازے کے دائیں جانب ہو گیا مگر اندھیرے میں دیوار پر ہاتھ پھیرنے کے باوجود مجھے بورڈ نہ ملا۔ میں دوسری جانب بڑھا اور بورڈ تلاش کرکے اس کے اوپر موجود بٹنوں کو یکے بعد دیگرے آن کرنا گیا۔ جیسے ہی لائٹ جلی میں نے ایک لحظے کے لیے کمرے کا جائزہ لیا اور دوبارہ لائٹ آف کر دی۔ کمرے کے اندر تین چار پائیاں دیواروں کے ساتھ سلیقے سے بچھی ہوئی پڑی تھیں اور ان کے اوپر منقش چادریں اور تکیے پڑے ہوئے تھے۔ البتہ ہمارے علاقے کی بیٹھک کے برعکس گلی کی سمت اس کا کوئی دروازہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں اندازے سے چل کر ایک چارپائی پر نیم دراز ہو کر صبح کا انتظار کرنے لگا۔ اندرونی کمروں کا رخ میں نے اس لیے نہیں کیا کہ لامحالہ سونے والوں نے دروازے اندر سے بند کر رکھے ہوں گے اور رات گئے وہ بغیر تصدیق کے کبھی بھی دروازہ نہ کھولتے الٹا شک پڑنے پر وہ شور مچا کر محلے والوں کو متوجہ کر دیتے یا ٹیلی فون کی سہولت میسر ہونے کی صورت میں پولیس کو بھی مطلع کر دیتے۔
کھانا کھائے مجھے کافی دیر ہو گئی تھی اور بھوک کافی شدت سے محسوس ہو رہی تھی، لیکن میں نے کچن کا رخ کرنے کی بجائے صبح تک انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ چند گھنٹے بھوک برداشت کرنا چنداں دشوار نہیں تھا کہ ہم پاکستانی گوریلے اپنی ٹریننگ کی بدولت کئی کئی دن بھوکے پیاسے گزار سکتے ہیں۔
صبح ہونے تک میری سوچوں کا دھارا مختلف سمتوں میں بہتا رہا۔ کبھی گھر کی یاد اور کبھی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں سوچتا رہا۔ حالات روز بہ روز بگڑتے جارہے تھے۔ لڑائی جھگڑا اور مارکٹائی کبھی بھی مجھے محبوب نہیں رہے، گنڈہ پور ہونے کے باوجود مجھے خونخواری پسند نہیں تھی اور حتی الوسع میں قتل و غارت سے پرہیز کرتا تھا، لیکن انڈیا آمد کے بعد حالات نے میری امن پسندی کی خو بدل دی تھی۔ یہاں تک کہ کئی آدمی میرے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے۔ بلاشبہ وہ کافر تھے اور ان کو قتل کرنے کا محرک بھی حالات تھے، لیکن پھر بھی کسی کے خون سے ہاتھ رنگنے کا احساس میرے اندر جاگز ین رہا۔ یوں بھی قتل وغارت کا جو سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس کے رکنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ اگر میں خیریت کے ساتھ پاکستان پہنچ جاتا تو وہاں بھی حالات کوئی بہتر نہیں لگ رہے تھے۔
صبح کی اذان اور مختلف گھروں سے اٹھتی ہوئی بھجن کی آوازوں کے ساتھ مجھے اندرونی کمروں کی جانب کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے دروازے کے قریب پہنچ کر جھری سے جھانکا تو ایک نورانی چہرے والا شخص باتھ روم کے دروازے سے نکلتا دکھائی دیا۔ دونوں آستینیں اس نے کہنیوں تک اڑسی ہوئی تھیں جن سے پانی ٹپک رہا تھا وہ وضو کا پانی تھا میرا دل عجیب طرح کی خوشی سے بھر گیا۔
”اس کا مطلب ہے انجانے میں مَیں نے کسی مسلم گھرانے میں پناہ لے لی ہے۔“ میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔بزرگ صورت شخص باتھ روم سے نکل کر بغلی کمرے میں گھس گیا اور پھر تھوڑی دیر بعد سر پر سفید ٹوپی رکھے وہ بیرونی دروازے کی طرف آتا دیکھائی دیا۔
میں آہستہ سے پیچھے ہٹا اور پھر چارپائی پر آکر بیٹھ گیا۔ ابھی مجھے بابا کی واپسی کا انتظار کرنا تھا۔ اس کی غیر موجودی میں گھر کے اندر گھسنا مجھے نامناسب لگ رہا تھا۔
آدھ پون گھنٹے کے بعد مجھے بیرونی دروازے کے کھلنے کی آواز آئی میں نے آگے بڑھ کر دروازے کی جھری سے جھانکا تو وہ بابا ہی تھا۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑے وہ آہستہ روی سے چلتا ہوا برآمدے کی سمت بڑھتا دکھائی دیا۔
”بابا جی بات سنیں۔“ میں آہستہ سے بولا۔ وہ ٹھٹک کر رک گیا اور حیرانی سے دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
”میں ادھر ہوں بزرگو۔“ میں نے دروازہ ہلکے سے بجا کر کہا۔ اس دفعہ اس نے مجھے دیکھ لیا اور چہرے پر حیرانی بھرے تاثرات سجائے وہ کمرے کی جانب بڑھ آیا۔اس کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے میں نے دروازہ کھو ل کر لائٹ جلائی جس سے کمرے میں چھایا ملگجا اندھیرا روشنی میں بدل گیا۔
”السلام علیکم۔“ اس کے کمرے میں داخل ہونے میں مَیں نے سلام کرنے میں پہل کی۔
”وعلیکم السلام ورحمتہ اﷲوبرکاة۔“ وہ خشوع و خضوع سے بولا۔ ”بیٹھیں آپ غالباً اقبال میاں کے مہمان ہیں۔“
”نہیں بزرگوار!“ میں نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔ ”میں زبردستی کا مہمان ہوں۔“
”کیا مطلب ؟“ وہ حیرانی سے بولا۔
”مطلب یہ کہ گزشتہ شب اپنی جان بچانے کے لیے میں آپ کے گھر گھسا تھا۔“
”کس سے ….؟ پولیس سے یا….؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”پولیس سے بھی اور مجرموں سے بھی۔“ میں نے اپنی بات کی وضاحت کی۔
”برخوردار! یہ گھر مجرموں کو پناہ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“ وہ متانت سے بولا۔”البتہ آپ کے مسلمان ہونے کے ناطے میں اتنا کر سکتا ہوں کہ آپ کو ناشتا کرا کر یہاں سے رخصت کر دوں اور پولیس کو بھی اطلاع نہ دوں۔“
”اس کے ساتھ اگر آپ مجھ پر ایک اور مہربانی کریں کہ میری کہانی سن لیں تو کیسا رہے گا؟“
”کہانی۔“ اس نے بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنی دستی گھڑی پر وقت دیکھا اور پھر ایک لحظہ سوچ کر بولا۔ ”چلو سنا دو۔“
”میرا تعلق پاکستان آرمی سے ہے۔“ اس کی طرف سے اجازت پا کر میں نے اپنی آپ بیتی شروع کی اور پاکستان کا لفظ سنتے ہی وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنے گاﺅں کے واقعات سے شروع کر کے شمالی علاقہ جات، خط کا ملنا، بھگوڑا ہونا پھرگرفتاری اور فرار تک کی تمام کہانی اس کے گوش گزار کر دی۔ اس دوران وہ خاموشی سے بیٹھ کر میری طرف متوجہ رہا۔
”آپ کا نام عمر جان ہے؟“ میرے خاموش ہوتے ہی وہ مستفسر ہوا۔
”جی۔“ میں نے اثبات میں سرہلا کر کہا۔ ”آپ نے غالباً….“
”ہاں صحیح سمجھے ۔“ وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔ ”پچھلے چند دن سے اخبارات میں آپ کے متعلق بڑی گرم خبریں شائع ہو رہی ہیں۔“
”بس یہ تو ذرہ نوازی ہے انڈیا والوں کی کہ مجھے تخریب کار، دہشت گرد اور پتا نہیں کیا کیا بنا دیا۔“
”اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔“ اس کے لہجے میں اپنا ئیت در آئی۔ ”اور میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟“
”آپ میری کیا خدمت کر سکتے ہیں؟“ میں بھی بغیر تکلف کے بولا۔
”بیٹا بات یہ ہے کہ پہلے مجرم سمجھ کے میںآپ کو یہاں سے جانے کے بارے کہہ چکا ہوں اور اس بات پر میں شرمندہ بھی نہیں ہوں کیونکہ یہ گھر واقعی مجرموں کو پناہ دینے سے قاصر ہے البتہ آپ کی بے گنا ہی اس بات کی متقاضی ہے کہ میں حتی الوسع آپ کی مدد کروں اور جہاں تک تعلق ہے کام آنے کا توآپ کو جتنے پیسے چاہیے ہوں ، مجھ سے لے سکتے ہیں یا پناہ چاہیے ہو تو میرے گھر کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں، جتنا عرصہ چاہے یہاں آرام سے رہیں۔ البتہ اگر آپ یہ کہیں کہ میں آپ کو سرحد پار کر ا دوں تو معاف کرنا بیٹا یہ میرے بس سے باہر ہے۔“
”مہربانی چچا جان!…. مجھے بس آج کا دن ہی یہاں پر گزارنا ہے شام تک میں یہاں سے نکل جاﺅں گا۔آپ نے بس اتنا کرنا ہے کہ دہلی سے بمبئی جانے والے کسی ایسے راستے کی طرف میری رہنمائی کر دینا جس پر میرے لیے خطرہ کم سے کم ہو۔“
”اس بارے بھی میں معذرت خواہ ہوں۔“ وہ صاف گوئی سے بولا۔ ”مجھے دہلی سے بمبئی جانے والے کسی بھی ایسے راستے کے متعلق معلومات نہیں ہیں جس پر سفر کر کے آپ کی پولیس سے مڈبھیڑ نہ ہو۔“
”اچھا…. پھر ناشتا ہی کرا دیں۔“ میں مسکرادیا۔
”نہیں۔“ اس نے زیر لب مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ ”پہلے آپ اٹھیں گرم پانی سے غسل کریں۔ کپڑے بدلی کریں اس کے بعد ناشتا ملے گا۔“
”جیسے آپ کی مرضی چچا جان!“ میں فوراً اس سے متفق ہو گیا کہ میرا اپنا جی نہانے کو کر رہا تھا۔
”چلو۔“ وہ اٹھتا ہوا بولا اور میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
سورج طلوع ہو چکا تھا۔ گھر کے صحن میں ہلکی پیلی دھوپ پھیل گئی تھی۔ برآمدے میں ایک درمیانے قد کا جوان کھڑا تھا جس کا تعارف اس بزرگ نے اقبال کے نام سے کر ایا۔ ان کا اپنا نام عبدالمنان تھا اس کی بیوی عرصہ ہوا فوت ہو چکی تھی ۔جبکہ اولاد میں ایک اقبال اور ایک اس سے چھوٹی بہن رقیہ شامل تھے اور دونوں شادی شدہ تھے ۔اقبا ل خود ایک چھوٹے سے بچے بلال کا باپ تھا۔ اس کی بیوی ماریہ ایک قبول صورت گھریلو خاتون تھی۔ وہ خود ایک دفتر میں کلرک تھا جبکہ عبدا لمنان کا اپنا جنرل سٹور تھا ان کی گزر اوقات بہت اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔
نیم گرم پانی سے نہا کر میری سستی اور کسلمندی دور ہو گئی تھی۔ لباس کے نام پر میرے حوالے ایک چادر اور قمیص کی گئی کہ اقبال اور عبدالمنان دونوں کی شلواریں میرے ناپ سے چھوٹی تھیں۔ قمیص کا البتہ کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ وہ لباس زیب تن کر کے میں خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ میرے باتھ روم سے باہر آتے ہی ماریہ (اقبال کی بیوی ) باتھ روم میں گھس کر میرے کپڑے دھلائی کرنے لگ گئی وہ دونوں باپ بیٹا ناشتے پر بے صبری سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ ناشتے میں سبزی کے پراٹھے، آملیٹ، دودھ، دہی وغیرہ شامل تھے۔ نہانے سے میری بھوک مزید چمک اٹھی تھی اور میں نے ناشتے کے ساتھ خوب انصاف کیا۔
”اچھا عمر بھائی میں تو دفتر چلا۔“ ناشتے پر چھائی خاموشی کو توڑتے ہوئے اقبال بولا۔ ”واپسی پر انشاءاﷲ آپ سے گپ شپ ہو گئی۔“
”ضرور۔“ میںبے تکلفی سے بولا۔” اگر ہو سکے تو واپسی پر دو تین اخبار لیتے آنا۔“
”اخبار تو ابھی لے لو۔“ وہ مسکرایا۔ ”اس گھر میں باقاعدگی سے اخباربینی ہوتی ہے ابو جان تو اخبار پڑھے بغیر سٹور نہیں کھولتے، یہ تو آج آپ کی آمد نے انھیں اس شغل سے باز رکھا ۔“ اس کے بعد وہ کمرے سے دو تازہ اخبار نکال لایا۔
اقبال تو اخبار دے کر دفتر چلا گیا اور ہم دونوں اخبار پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔ مجھے صرف اپنے بارے چھپی ہوئی خبر پڑھنے سے دلچسپی تھی اور اس کے لیے مجھے اخبار کھنگالنے کی ضروت نہیں پڑی پہلے صفحے ہی پرمیری دو تصاویر جگمگارہی تھیں۔جن میں ایک تصویر داڑھی والی اور دوسری بغیر داڑھی کے تھی۔ نیچے پرانے جھوٹ سچ کے ساتھ نئی تفصیلات بھی دی ہوئی تھیں۔ دہلی میرٹ روڈ پر میرے ہاتھ سے قتل ہونے والے اٹھائی گیر کے علاوہ بھی دہلی میں ہونے والے چند قتل میرے نام سے منسوب کیے گئے تھے۔ روڈ والے قتل کا سہرا میرے سر اس لیے بندھا تھا کہ اس کے ساتھی کو میں بے ہوش چھوڑ آیا تھا جو بعد میں پولیس کے ہاتھ چڑھ گیا تھا جس سے میرا دہلی میں وارد ہونا راز نہیں رہ سکا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور اور بِلّانامی شخص بھی پولیس کی گرفت سے بچ نہ سکے تھے۔ ان کی گرفتاری کا سارا کریڈٹ ایک مسلمان انسپکٹر کو جاتا تھا جس نے جان پر کھیل کر ان دونوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان دونوں نے بھی اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے سارا الزام میرے سردھرا تھا کہ کس طرح میں نے ان سے ٹیکسی چھیننے کی کوشش کی تھی جو پولیس کی مداخلت سے ناکام ہو گئی تھی۔ ان کے اس بیان پر پولیس نے بھی اپنی ازلی بے حسی کا ثبوت دیا تھا ورنہ ان سے صرف اتنا ہی پوچھ لیا جاتا کہ اگر وہ بے قصور تھے تو پولیس کو دیکھ کر بھاگے کیوں تھے۔بہ ہر حال میں نے زیادہ دیر اس بات پر سر نہ کھپایا اور عبدالمنان سے دوسرا اخبار لے کر پڑھنے لگا۔ اس میں بھی کم وبیش پہلے اخبار والی قصہ کہانی دہرائی گئی تھی البتہ عبدالمنان کے محلے میں میری روپوشی کو بنیاد بنا کر لکھا تھا کہ میں ابھی تک اسی محلے میں ہو سکتا ہوں اور پولیس کو سارے محلے کا گھیراﺅ کرکے گھر گھر کی تلاشی لینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
یہ خبر عبدالمنان بھی پڑھ چکا تھا لیکن اس نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔
”چچا جان اگر اجازت ہو تو میں تھوڑی دیر آرام کر لوں۔“ مطلوبہ خبریں پڑھ کر میں عبدالمنان کو مخاطب ہوا۔
”ہاں ہاں بیٹا! کیوں نہیں۔“ وہ پُر خلوص لہجے میں بولا۔ ”ماریہ بیٹی نے تمھارے لیے بیٹھک میں بستر لگا دیا ہے۔“
اور میں بیٹھک میں آ کر سو گیا۔ساری رات کی تھکن اور پھر پیٹ بھرنے کے بعد نیند کی مہربان دیوی نے مجھے اپنی آغوش میں لینے میں دیرنہ لگائی۔ میں کافی دیر سوتا رہا دن کا کھانا بھی اس نیند کی نذر ہو گیا۔ سہ پہر کو دفتر سے واپس آ کر اقبال نے مجھے اٹھایا۔ اس وقت تک میری نیند پوری ہو چکی تھی اور میں اپنے آپ کو نہایت چاق چوبند وتروتازہ محسوس کررہا تھا۔
”عمر بھائی آپ تو گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں او رشہر میں سارے محکمے آپ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔“
”یہ کوئی آج کی بات تو نہیں ہے۔“ میں انگڑائی لے کر اٹھتا ہوا بولا۔ ”جب سے میرے قدم یہاں پر پڑے ہیں۔ یہاں کے لوگ میری محبت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔“
”واقعی آپ کی بات صحیح ہے۔“ اقبال ہنسا۔ ”بہ ہر حال اٹھیں غسل کریںپھر چاے پئیں گے، کھانے کا وقت تو یوں بھی گزر گیا ہے۔“
میں سر ہلاتا ہوا باتھ روم کی سمت بڑھ گیا۔ میرا اپنا لباس استری شدہ باتھ روم میں لٹکا ہوا تھا۔ نہا کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور باتھ روم سے باہر نکل آیا۔ دونوں باپ بیٹا چاے کے برتن سجائے میرے انتظار میں بیٹھے تھے۔ چاے خاموشی سے پی گئی اس کے بعد عبدالمناننے کہا۔
”عمر بیٹے اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ چند ہفتے ہمارے گھر ہی روپوش رہو جیسے ہی آپ کی تلاش کی سرگرمیاں کچھ مدہم پڑیں تب یہاں سے چلے جانا۔فی الحال آپ کا باہر نکلنا بہت بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔“
”میں آ پ سے متفق ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ جب تک مجھے گھر کی طرف سے اطمینان حاصل نہیں ہو جاتا مجھے چین نہیں آ سکتا۔“
”یہ نہ ہو کہ اس تیزی کی بدولت خدانخواستہ ہمیشہ کے لیے گھر پہنچنے سے رہ جاﺅ۔“ عبدالمنان نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔ ”اس لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ہفتا باہر نکلنے سے گریز کرو۔“
”آپ کی مہربانی چچا جان!….لیکن یہ ناممکن ہے۔“
”چلو جیسے آپ کی مرضی۔“وہ بادل نخواستہ راضی ہوا۔
”عمر بھائی ہمیں اپنے شہر اور پاکستان کے بارے کچھ بتاﺅ نا؟“ اقبال نے موضوع بدلا۔اور میں انھیں اپنے پیارے ملک اور شہر کے بارے تفصیل سے بتانے لگ گیا۔ ہم اسی گفتگو میں محو تھے کہ مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہوئی وہ دونوں باپ بیٹا تو مسجد کی سمت روانہ ہو گئے اور میں وضو کرکے گھر ہی میں نماز پڑھنے لگا۔
ان کی مسجد سے واپسی پر ہم تینوں نے اکٹھے بیٹھ کر پُر تکلف کھانا تناول کیا۔ اقبال کی بیوی نے البتہ ہمارے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور ہمارے آگے کھانا چننے کے بعد وہ اپنے بچے کو لے کر کچن میں گھس گئی تھی۔
کھانے کے بعد ایک مرتبہ پھر چاے کا دور چلا اس کے بعد وہ دونوں باپ بیٹا روٹین کے مطابق عشاءکی نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔
ان کی واپسی کے بعد میں وہاں سے کوچ کرنے کے تیار ہوگیا تھا۔
”بیٹا کم از کم آج کی رات تو ہمیں میزبانی کا موقع دے دیتے۔“ عبدالمنان پُرخلوص لہجے میں بولا۔
”چچا بہ خدا میرا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ورنہ میں کبھی بھی آپ کی دعوت نہ ٹھکراتا۔“
”اچھا یہ رکھ لو راستے میں کام آئیں گے۔“ اس نے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر میری طرف بڑھائی ۔
”رقم میرے پاس کافی ہے البتہ آپ کی نشانی کے طور پر میں یہ رکھ لیتا ہوں۔“ میں نے نوٹوں کی گڈی میں سے ہلکی مالیت کا ایک نوٹ اٹھا کر جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔ ”باقی آپ رکھیں ،مجھے ضرورت ہوتی تو میں آپ سے مانگتے ہوئی قطعاً نہ شرماتا۔“
اقبال نے پوچھا۔”اس کے علاوہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو….؟“
”بہت بہت مہربانی اقبال بھائی!“ گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں کھڑا ہوگیا۔ ”اب میںاجازت چاہوں گا۔“
رات کے دس بجنے والے تھے جب میں ان سے رخصت ہو کر گلی میں نکلا راستے کے لیے کوئی حتمی لائحہ عمل میں طے نہیں کر سکا تھا لیکن ایک جگہ پر ٹک کر بیٹھے رہنے سے مسلسل حرکت میں رہنا ہی میرے لیے مناسب تھا۔
عبدالمنان کے گھر سے میں تھوڑا آگے ہی آیا ہوں گا کہ سامنے سے آتا ہوا ایک نوجوان مجھے مخاطب ہوا۔
”بھائی صاحب ماچس ہو گی؟“
”نہیں!“ میں نے مختصراً جواب دیا۔
”اڑے اجیت ! یہ تُو ہے بے۔“ مجھے آگے بڑھتا دیکھ کر اچانک ہی وہ جھپٹا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا اس نے میرے چہرے سے مفلر کھینچ لیا۔
”او،شما چاہتا ہوں مہاراج!“ سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں میرے چہرے پر نظر ڈالتے ہی وہ جلدی سے ہندوﺅں کے انداز میں دونوں ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔ ”میں نے سمجھا کہ اپن کا بیلی اجیت ہے۔“
”کوئی بات نہیں۔“ میں مفلر دوبارہ اپنے چہرے کے گرد لپیٹ کربولا اور وہاں سے جانے کے لیے آہستہ سے مڑا اور پھر ایک قدم آگے بڑھ کر ایک دم پلٹا تو میرے اندازے کے مطابق وہ نوجوان میرے مڑتے ہی جیب میں ہاتھ ڈال کر ہتھیار نکال رہا تھا۔جونھی ہی میں پلٹا وہ ہتھیار میری سمت سیدھا کرنے ہی والا تھا۔ وہ میری کک کی رینج میں تھا میں اپنے دائیں پاﺅں پر گھوما اور بائیں پاﺅں کی ایڑی کی ضرب اس کے داہنے ہاتھ پر پڑی۔ پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا پڑاتھا۔
”عمرجان…. تیرا کھیل ختم ہو چکا ہے اور تم چاروں طرف سے گھیرے میں ہو۔“ اس بار وہ موالیوں والے لہجے کےبجائے انگلش میں بولاتھا۔

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/