مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 18 "اتنا دور نہ…

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 18

"اتنا دور نہیں ہے بس پندرہ منٹ کے اندر پہنچ جائے گئے ۔”
"ویسے کسی جگہ لیکر جانے کے لیے آپ کو پولیس سٹیشن ہی نظر آیا بہت پہلے وہ عجیب سا سکول توبہ ایک تو آپ اتنی خطرناک جگہ کیوں لیکر جاتے ہیں ۔”
"ارے یہ دونوں ہی تو میری فیورٹ جگہ ہے مجھے لگا باقیوں کی طرح آپ کو زولفیقار ہاوس ہانٹٹ اور سکیری لگا ہوگا ۔”
وہ اس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
"پتا نہیں مجھے تو ہرگز نہیں لگا سکیری اتنا خوبصورت تو ہے لوگوں نے ایسی جیلسی میں آکر کہہ دیا ہوگا ۔”
وہ مسکرا پڑا
"او ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔”
"ہاں مسڑ پوزیٹو نے یہ بات سوچی ہی نہیں ۔”
ہما بھی اسی کے انداز میں بولی زُلنین ہنس پڑا
اور جزلان کار کے پیچھے اپنے سر پکڑ کر بیٹھا تھا کے زُلنین بھی غلطی کرنے جارہا ہے
????????????????????????????????????????
"یہ کون سا پولیس سٹیشن ہے جو ابھی تک آہی نہیں رہا ۔”
ہما اس سے بات کررہی تھی جب اچانک اس نے دیکھا اب مری کی سرد اونچی ہواؤں سے بھری وادیوں کی بجائے وہ اب دھوپ سی بھری ہائے وے میں پہنچ گئے تھے
"پولیس سٹیشن کس نے جانا ہے اب !”
وہ مڑ کر مسکرایا
"لیکن آپ نے یونی فورم پہنا ہے آپ اپنے کام سے چھٹی لے لی کتنی بُری بات ہے ایک تو آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا اور اب یقینن شہر لے آئے ہیں دوسرا آپ نے کام چوری کی بولنے والے کو اپنی باتوں پر عمل ہرگز کرنا چاہیے ۔”
ہما نے زُلنین کے ہی سٹائل میں کہا
"پہلی بات نہ ہی میں نے جھوٹ بولا اور دوسرا نہ ہی کوئی کام چوری کی اصل میں میرا کام اسلام آباد ہی تھا وہ تو ویسے آپ کو نیا دکھانا تھا آپ نے خود بوریت کا اظہار کیا اور ویسے بھی ٹائیم ویسٹ ہونا تھا دوسرا یہ ہے کے میں کام چوری نہیں بلکہ وقت کی پابندی دکھا رہا ہوں اور مجھے پورے دس بجے پہنچنا ۔”
"پھر تو آپ لیٹ ہونے والے ہیں ۔”
وہ مسکرا کر بولتے ہوئے کار کی گھڑی دیکھنے لگی تو جھٹکا لگا ابھی صرف نو بجے تھے جبکہ وہ نکلے سوا آٹھ تھے
"میں ایک اچھا ڈرائیور ہوں اور انشااللّٰلہ آپ کو بھی سکھاؤں گا ۔”
"جی بالکل !”
وہ سادہ لہجے میں بولتے ہوئے سیٹ کی پُشت سے سر ٹکا دیا اور گردن موڑ کر شیشے کے پار اب در آنے والی ٹریفک کو دیکھنے لگی اچانک زُلنین اس کو دیکھتے ہوئے چونکہ ہما کے کان کے نیچے زخم تھا یہ کیسا زخم تھا وہ اس زخم کو دھیان سے دیکھ پاتا کے ہما مڑ کر اسے دیکھنے لگی
"کیا ہوا ؟”
زُلنین پیچھے ہوگیا
"اا کچھ نہیں !”
زُلنین کی نظر اس کے زخم پر ایک بار پھر پڑی ہما نے اس کو اپنے اوپر گھورتے ہوئے پایا تو ماتھے پہ شکن لاتے ہوئے بولی
"کیا دیکھ رہے ہیں مسڑ چھچھوڑے !”
"ارے مجھ جیسے شرافت سے بھر پور آدمی کو آپ چھچھوڑا تو نہ کہے ۔”
"تو اتنا سکین کرکے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔”
شکن ابھی تک تھئ
"خدا کو مانے اگر میں چھچھوڑا ہوتا تو آپ کیا میری گاڑی میں بیٹھتی !”
"وہ تو میرے آپ نیبر ہے اور نیبر کے حقوق نبھاتے ہوئے آپ کا دل نہیں توڑ رہی ورنہ اب بھی آپ چھچھوڑے ہی ہیں ۔”
"رائٹ ! ہم حقوق بنھوئے تو چھچھوڑے آپ نبھائے تو احسان !”
اب زُلنین بڑبڑاتے ہوئے بولا تو ہما نے اپنے ہنسی روکنے کی بھر پور کوشش کی
????????????????????????????????????????????
"فائیق بھائی فرانس ایسے ہی گئے ہیں ابا ورنہ کون سا بزنس ان کا ۔”
کشف نے اپنے لپ سٹک کو آخری ٹچ دیا کشف کو انسانوں کی ایک چیز پسند تھی وہ تھی لپ سٹک کی کریشن جتنا وہ دیوانی تھی لپ سٹک کی شاہد ہی کوئی عورت ہوئی ہو۔
"فائیق انسان کے روپ میں کام بھی کرتا ہے کشف !زُلنین بھی تو پولیس کی وردی میں کام کرتا ہے ۔”
دادا ابا مطمن انداز میں بولے
"زُلنین کا تو مجھے پتا وہ کس لیے کرتا ہے لیکن فائیق بھائی کا ایسا کون سا بزنس ہے جو میرے اور جزلان کے علم میں نہیں ہے ۔”
ان کا کہنا کا مطلب صاف صاف تھا ساری ریپورٹ انھیں جزلان دیا کرتا تھا اگر جزلان کو نہیں پتا تھا تو سمجھو ان کو بھی نہیں پتا ۔
"ہوٹل ! اور یہ نیلم ویلی میں ہے جو گھر نہیں یاد ڈیوڈ کا تھا وہ اس نے فائیق کو دیں دیا ہے اور فائیق نے ۔”
"یقینن لوگوں کو ڈرایا ہوگا !”
کشف آنکھیں گھماتے ہوئے بولی
"فائیق سخت مزاج ضرور ہے کشف لیکن شرارتی بچہ نہیں ہے جو لوگوں کو ڈرائے ۔”دادا زولفیقار کو گوارا نہیں تھا کے وہ اپنی اولاد کی بُرایاں اپنی دوسری اولاد کے سامنے کریں چاہیے وہ کوئی بھی جتنا بُرا ہی کیوں نہ ہو
"تو پھر لوگ ان کے نام تک سے کانپ کیوں جاتے ہیں ۔”
"اس کی بارعب شخصیت سے !”
"رائٹ ابا یہ بات آپ زولی کے لیے کہتے ہیں !”
وہ اپنے لمبے بالوں کا جھٹکتے ہوئے بولی
"میرے لیے تم سب برابر ہوں کاشف !”
دادا زولفیقار نے گویا بات ہی ختم کردیں
"لیکن ابا مجھے یہ فائیق بھائی کا فرانس جانا کچھ ہضم نہیں ہوا ۔”
"نہیں ہوا تو بیٹا جاکر ہاج مولا کھا لے ۔”
دادا ابا کی شرارت سے کہنے پر وہ اونہہ کہہ کر آُٹھ کر چل پڑی
????????????????????????????????
وہ شہر پہنچ چکے تھے ہما کو اسلام آباد کو پورا دیکھنے کا دل کیا لیکن زُلنین کو کہہ نہیں سکتی تھی اس لیے ایک دم چُپ ہوکر ایسی اس شہر کی ایک ایک چیز کو اپنے اندر سموئے ہولے سے مسکرائی
"کیا ہوا مجھے چُپ ہونا چاہیے تھا لیکن محترمہ ہما صاحبہ چُپ ہیں خیریت تو ہے ۔”
"اپنی بُرایاں کروانے کا شوق ہے تو ضرور میں بولنے کے لیے تیار ہوں ۔”
وہ بیزاری سے بولی
"ارے ارے ناراض تو نہ ہوئے میں آپ کو پورا اسلام آباد گھماؤ گا ٹرسٹ می بس تھوڑا سا ویٹ کریں بس کسی ڈی ائی جی سے میٹنگ کر آو ۔”
وہ اس کی بیزاری سمجھ چکا تھا
"ٹھیک ہے جائیں آپ میں انتظار کر لو گی ۔”
"پکا ! ”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا
"پکا !”
وہ جھنجلائی
"کھبی مجھے بھی دھوکہ دیں دیا کرو ! ”
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے نکل پڑا
ہما کو اس کی بات دیر سے سمجھ آئی وہ مسکراہٹ کی بات کررہا تھا لیکن وہ چا کر بھی مسکرا نہ سکی
نانو کو گئے اتنے دن بھی نہیں ہوئے تو اور وہ ایک اجنبی کے ساتھ گھوم رہی تھی اکسائٹمنٹ کی جگہ گلٹ نے لے لی تھی اسے شرمندگی ہوئی وہ کتنی بُری ہے ۔لیکن وہ بھی کیا کرتی اسے اس گھر میں اکیلے رہتے ہوئے خوف آرہا تھا اور زُلنین کی موجودگی اسے تحفظ کا احساس دلاتی تھی وہ کیا کرسکتی تھی وہ مجبور تھی ایک آنسو ہما کے آنکھوں میں جما ہوا اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی
????????????????????????????????????
"ان کے پیٹ پہ کچھ سپیسفک قسم کے زخم تھے پوسٹ مارٹم کے مطابق دوسرا ان کا سانس بھی روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی میرا کہنے کا مطلب ہے ایک تو زخم دیں کر پھر سفوکیٹ کر کے مارا تھا ۔”
ایس پی اورہان زُلنین کا دوست بولا یہ وہ دوست تھا جو انسان تھا اور اسے یہ نہیں پتا تھا زُلنین جن ہے ۔
"یانی یہ نیچرل ڈیتھ نہیں سراسر قتل ہے ۔”
زُلنین لب بھینچتے ہوئے بولا
"یس ! قتل اور وہ بے رحمی سے کیا گیا قتل !تم یہ زخم دیکھ رہے ہو یار کوئی انسان اتنا بھی جانوروں کی طرح مار سکتا ہے ”
"برما کے حالات تم بھول گئے ہو لگتا ہے وہ کسی دوسری مخلوق نے نہیں بلکہ انسان کا کیا دھرا کام ہے ۔”
ڈی آئی جی صاحب جو اتنی دیر سے خاموش تھے بول پڑے زُلنین چُپ رہا
"یہ تو ہے ہم انسان ہی بے رحم مخلوق ہے ۔”
"اور ہم پتا نہیں انسان زرا الزام حیوان کو دیں دیتے ہیں ۔”
زُلنین تلخی سے بولا سب ایک دم خاموش ہوگئے
"ہم اپنے ضمیر کو مطمن کرنے کی خاطر ساری غلطیاں یا تو معاشرے ، لوگ ، چرند پرند ، دوسری مخلوق پر ڈال دیتے ہیں یا ان سے کمپیر کردیتے ہیں اور تو اور ہم اپنے خدا کو بھی ہماری ساری حالات کا زمہ دار ٹہرا دیتے ہیں یہ انسان اور یہ ہے ان کی انسانیت !”
زُلنین کو کچھ شک پڑرہا تھا پتا نہیں یہ کام جن کا تھا لیکن اتنی نفرت اور حقارت بھلا کیوں ہوگی دال میں کچھ کالا تو تھا
"زُلنین بیٹا ہما کیسی ہے ۔”
زُلنین کی سچ اور کڑوی باتیں ڈی ائی جی صاحب سے بھی ہضم نہیں ہوئی اس لیے بات بدلتے ہوئے بولے
زُلنین نے سر اُٹھایا
"ٹھیک ہے سر ابھی کار میں بیٹھی ہے ۔”
"اچھا اس سے ملواوں یار اور کوشش کرو اس کا خیال رکھو اگر کسی نے اس کی نانی کو مارا ہے تو اس کا بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔”
"جی سر میں ابھی لاتا ہوں ۔”
????????????????????????????????????????????
وہ کار میں بیٹھی ایسی آنکھیں بند کیے اس کا انتظار کررہی تھی جب کار زور سے ہلی اس نے دیکھا شاہد زُلنین آگیا لیکن نہیں وہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئی گاڑی دوبارہ ہلی اور بڑے زور سے اس نے پیر جلدی سے اوپر کیے اسے لگا جیسے زلزلہ آگیا ہوں
"یا اللّٰلہ ! اب کون سی آفت آنے لگی ہے ۔”
وہ ڈر کر بولی جو مسلسل ہل رہی تھی ایک دم کار ہلنے رُک گئی اس نے گہرا سانس لیا اور پھر اس کی نظر شیشے کی طرف بڑھی جہاں شرارتی لڑکی چلتے ہوئے ہنس رہے تھے اور اور ایک دوسرے کی ہاتھ پہ تالی مار رہے تھے ہما کو سمجھ آئی کسی نے اس کو شرارت سے تنگ کیا غصے نے ہما کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ہما تیزی سے کار سے اُتری اور تیزی سے ان کے پاس آئی
"او ہلیو !”
لڑکے ہنستے ہوئے بے اختیار مڑے جہاں سُرخ چہرہ لیے ہما انھیں گھور رہی تھی
"جی ہلیو !”
وہ بھی شرارت سے مسکرائے اور انداز تو بے حد لو فرانہ تھا
"تم لوگوں کو کوئی مینرز نہیں ہیں ایسے کرتا ہے کوئی بھلا ۔”
وہ غصے سے بولی
"ہاں نہیں ہے مینرز آپ سکھا دیں ۔”
ایک تو بے حد گندی نظروں سے ہما کو دیکھ رہا تھا اور یہ بات ہما کو آگ بگھولہ کردیا
"لگتا ہے تمھیں نہیں پتا کے دور ہی ایک پولیس سٹیشن ہے اور جس کی کار کو تم شرارت سے چھیڑ رہے تھے وہ ایک ایس پی کی ہے ۔”
"چلے جانِ من آپ کو چھیڑتے ہیں ۔”
ایک میں سے کہتے ہوئے آگئے بڑھا ہی تھا ہما ایک دم پیچھے ہوئی کیونکہ جس طرف وہ چل کر آئی تھی وہ سنسان جگہ تھی
"ابھی بلواتی ہوں میں زُلنین کو !”
وہ تیزی سے مڑنے لگی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا
مڑی
"چھوڑو میرا ہاتھ چھوڑو !!!”
ایک دم اس بندے کے منہ پہ پنج لگا وہ بندے سیدھا دور جاکر گرا
کسی نے اسےاپنے پاس کھینچا دیکھا تو اور کوئی نہیں وردی میں ملبوس خوبصورت اور بارعب شخصیت والا اس کا ہی دوست زُلنین زولفیقار تھا
"تم نے مجھے بلوایا ہما لو میں حاضر ۔”
ان لڑکے نے حیرت سے زُلنین کو پھر اپنے دور گرے دوست کو دیکھا جس کا منہ خون سے لت پت ہوگا
"زُلنین یہ کیا کیا آپ نے !”
ہما منہ کھولے دیکھ رہی تھی
"ہاں تو کیا کہہ رہے تھےانھیں چھیڑو گئے تو چھیڑو میں بھی دیکھتا ہوں کیسے چھیڑتے ہو ۔”
"اے ایس پی تم جانتے نہیں ہو
میں کس کا بیٹا ہوں ایک کال لگاوں گا نوکری سے باہر ۔”
ان میں سے ایک دھاڑا
زُلنین نے سیدھا موبائل پھینکا اور اس کے منہ پہ جاکر لگا
"او سوری لگی تو نہیں ہاں ملائے اپنے ڈیڈی کو کیا نام ہے منسڑ اُف لا حدید ربانی ہاں کرو کال میرا سلام بھی دینا اور ہاں پھر میں میڈیا کو کال کر کےتمھارے ایک ایک کارنامے کو اکسپوز کروں گا اور انکل کو بولنا نیوز چینل آن کر لے ۔”
اس نے ہما کو ابھی تک پکڑا ہوا تھا اور ہما شاکڈ سے اس زخمی بندے کو دیکھ رہی تھئ
"ہم تھوکتے نہیں ہے تمھاری لڑکی کو یہ خود فری ہورہی تھی خود چل کر ہمارے پاس آئی تھی ۔”وہ کہتے ہوئے اپنے دوست کو اُٹھا کر چلنے لگے
کے زُلنین نے اس کی بات پہ آگ بگھولہ ہوا اور آگئے بڑھ کر مارنے لگا اور ہما ہوش میں آتے ہی اس کے پاس بھاگی
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/