اورحان پاموک کی ‘لال بالوں والی عورت’ تصنیف حیدر …

تصنیف حیدر
اورحان پاموک کا ناول سفید قلعہ آج کے ایک شمارے میں پڑھا، ان کی کتاب ‘استنبول’ بھی بے حد پسند آئی۔ اب ادھر حال ہی میں ان کا ایک اور ناول ‘دی ریڈ ہیئرڈ وومن’ پڑھا ہے۔ یہ ایک شخص کی کہانی ہے، جس کا باپ مارکسی نظریے پر یقین رکھتا ہے اور اپنے ملک کے باغیوں کے ساتھ مل کر انقلاب کی جنگ میں مصروف رہتا ہے۔ اس چکر میں اسے روپوش بھی ہونا پڑتا ہے۔ ماں اپنے بیٹے کو لے کر اپنی بہن کے یہاں شفٹ ہوجاتی ہے، جہاں ناول کے اہم کردار ‘چیم’ کو ایک باغ کی رکھوالی پر مامور کیا جاتا ہے۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک کنواں کھودنے والے شخص ماسٹر محمود سے ہوتی ہے۔ ماسٹر محمود اسے اپنے ساتھ ایک دوسری جگہ کنواں کھودنے میں مدد کرنے پر اچھی خاصی رقم کی آفر کرتا ہے۔ چیم کے لیے یہ ایک سنہرہ موقع اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس طرح وہ اتنی رقم تیزی سے جمع کرسکتا ہے کہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے۔ ماسٹر محمود کے ساتھ ایک انجان شہر میں جانا، وہاں ایک لال بالوں والی عورت پر فدا ہونا اور ماسٹر محمود کی کہانیوں کے ساتھ تھیٹر گروپ (جس میں گلشن، یعنی لال بالوں والی عورت بھی کام کرتی ہے) کے پیش کردہ تاریخی و ماورائی قسم کے واقعات سے ایک خاص تعلق پیدا ہونا، یہ سب چیم کی ذات پر اپنے گہرے تاثرات قائم کرتے ہیں۔ خاص طور پر سوفوکلس کا ڈرامہ ایڈیپس اور فردوسی کے شاہنامے میں موجود رستم و سہراب کا قصہ، اول الذکر میں ایک بیٹا اپنے باپ کو قتل کرتا ہے، جبکہ دوسرے میں ایک باپ کے ہاتھوں بیٹا قتل ہوتا ہے۔ ان واقعات سے پاموک نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ مغربی دنیا کا ایڈپس جب اس بات کو جانتا ہے کہ اس نے انجانے میں ہی سہی اپنے باپ کا قتل کیا تو وہ خود کو سزا دیتا ہے اور اپنی آنکھیں نوچ لیتا ہے، (حالانکہ پاموک کے ہی بیان کردہ ایک واقعے سے یہ سوال بھی قائم ہوتا ہے کہ ایڈپس نے خود کو سزا کیوں دی تھی، اپنے باپ کو قتل کرنے کے لیے یا اپنی ماں کے ساتھ ہم بستری کرنے کے لیے) جبکہ مشرقی دنیا میں سہراب کا قتل کرنے کے باوجود رستم کسی قسم کے احساس گناہ کا شکار نظر نہیں آتا۔ اس کہانی نے میری ایک غلط فہمی بھی دور کی۔ راجندر سنگھ بیدی کی ایک کہانی ‘صرف ایک سگریٹ’ میں میں نے ایک جملہ پڑھا تھا کہ ‘ہر بیٹے کے دل میں یہ خواہش موجود ہوتی ہے کہ اس کا باپ مر جائے’ معلوم ہوا کہ یہ تھیوری سگمنڈ فرائڈ کی ہے، جو کہ اس کی کتاب ‘The Interpretation of Dreams’ میں پیش کی گئی ہے۔ کہانی بہت لمبی چوڑی ہے، بلکہ چیم اور گلشن کی سوانح حیات ہے۔ لیکن چیم کے ساتھ موجود دوسرے کرداروں سے قاری کی دلچسپی پڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ پھر چاہے وہ گلشن ہو یا چیم کے والد یا چیم کی بیوی عائشہ یا چیم کا ناجائز بیٹا انور یا ماسٹر محمود۔ اس کتاب کے سرورق پر بنی ہوئی عورت کا بنیادی خیال اصل میں دانتے گبرئیل روزیتی کی ایک پینٹنگ سے ماخوذ ہے۔ جس کو دیکھ کر گلشن اپنے بالوں کو لال رنگ کی چادر میں لپیٹ لیتی ہے۔ ‘پاموک کی کہانی میں ‘کنواں’ ایک علامت ہے، زندگی کی، تاریخ کی، ضمیر کی اور سب سے بڑھ کر وقت کی۔ کتاب میں بہت اہم معلومات بھی ہیں، جیسے مصنف نے بتایا ہے کہ ایڈپس پر بننے والی فلموں میں عام طور پر ڈائرکٹرز اس کے اور اس کی ماں کے درمیان جنسی مناظر کو فلمانے سے ہمیشہ کتراتے رہے، صرف ایک اٹیلین ڈائرکٹر Pier Paolo Pasolini نے قریب انیس سو ساٹھ کے بعد ایک فلم ایڈپس ریکس بنائی، جس میں یہ مناظر بخوبی دکھائے گئے ہیں۔ بیانیہ دلچسپ ہے اور انداز پراسرار، ناول صرف کہانی نہیں، بلکہ سوال بھی ہے اور ایک لمبی چوڑی رپورٹ بھی، ترکی قدامت پسندوں اور لبرلز کے درمیان جاری ذہنی کشمکش کو بھی ناول بہت اچھی طرح نمایاں کرتا ہے۔ مجھے یہ ناول بہت پسند آیا ہے اور اب میں جلد ہی ان کے بقیہ ناولز بھی پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
https://www.facebook.com/tasneefhaidar
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2143023802594808



