منتخب غزلیں
ہوائیں سنسناتی تھیں،ستارے جگمگاتے تھے وہ پیہم گنگ…

ہوائیں سنسناتی تھیں،ستارے جگمگاتے تھے
وہ پیہم گنگناتے تھے،مسلسل مسکراتے تھے
وہ مجھ کو مست مست آنکھوں سے پیمانے پلاتے تھے
نگاہوں کو مری آدابِ مے نوشی سکھاتے تھے
وہ راتیں یاد آتی ہیں، وہ راتیں یاد آتی ہیں
(ماہرؔ القادری)
وہ پیہم گنگناتے تھے،مسلسل مسکراتے تھے
وہ مجھ کو مست مست آنکھوں سے پیمانے پلاتے تھے
نگاہوں کو مری آدابِ مے نوشی سکھاتے تھے
وہ راتیں یاد آتی ہیں، وہ راتیں یاد آتی ہیں
(ماہرؔ القادری)


