منتخب غزلیں

لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو یہ وہ شیشہ …

لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو
یہ وہ شیشہ ہے کہ ٹوٹے بھی تو آواز نہ ہو

خوف ہے موسمِ گل میں کہ صبا کا جھونکا
طائر ہوش کے حق میں پر پرواز نہ ہو

دل بہت بلبل شیدا کا ہے نازک گلچیں
پھول گلِ زار کے یوں توڑ کہ آواز نہ ہو

کیا قیامت ہے وہ دل توڑ رہے ہیں میرا
اس گماں پر کہ چھپا اس میں کوئی راز نہ ہو

آئینہ ہاتھ میں ہے حسن کا نظارہ ہے
ان سے کہہ دو مری حالت نظر انداز نہ ہو

ہو کے وہ مست مئے ناز گلے لپٹے ہیں
ہوش کمبخت کہیں تفرقہ پرداز نہ ہو

اس گرفتار کی پوچھو نہ تڑپ جس کے لیے
در قفس کا ہو کھلا طاقت پرواز نہ ہو

اہلِ دل کو جو لٹاتی ہے صدا نغمے کی
پردۂ ساز میں پنہاں تری آواز نہ ہو

تھام لینے دو کلیجہ مجھے ہاتھوں سے جلیلؔ
قصۂ دردِ جگر کا ابھی آغاز نہ ہو

جلیلؔ مانک پوری


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/