منتخب غزلیں
کہاں ہے وحشتِ نم ناک میری بہت اُڑنے لگی ہے خاک میر…

کہاں ہے وحشتِ نم ناک میری
بہت اُڑنے لگی ہے خاک میری
بہت اُڑنے لگی ہے خاک میری
نہ اتنا ذکر ہو باغِ عدن کا
وہیں چھینی گئی پوشاک میری
بدن کی شاخ سے مَیں اڑ چکا تھا
کہاں رکھتا رہا وہ تاک میری
میں چپ رہتا تو بچ سکتی تھی گردن
مگر یہ فطرتِ بے باک میری
مجھے ہی بھوک میں کھانے کو دوڑے
تمنّا اِس قدر سفّاک میری
عدو سہمے کھڑے ہیں ، میں نہیں ہوں
عجب بیٹھی ہوئی ہے دھاک میری
مرے پہلے گنہہ کے بعد نیّر !
بہت روئی سرشتِ پاک میری
( شہزاد نیّر )
Shahzad Nayyar


