منتخب نظمیں

ایک پرانی ریت جو بھی گھر سے جاتا ہے یہ کہہ کر ہی جا تا ہے ’’ دیکھوں…

ایک پرانی ریت

جو بھی گھر سے جاتا ہے
یہ کہہ کر ہی جا تا ہے
’’ دیکھوں، مجھ کو بھول نہ جانا
میں پھر لوٹ کے آئوں گا
دل کو اچھے لگنے والے
لاکھوں تحفے لائوں گا
نئے نئے لوگوں کی باتیں
آکر تمھیں سنائوں گا ‘‘
لیکن آنکھیں تھک جاتی ہیں
وہ واپس نہیں آتا ہے
لوگ بہت ہیں اور وہ اکیلا
ان میں گم ہو جاتا ہے

منیر نیازی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/