منتخب غزلیں
اب کہاں اور کسی چیز کی چا رکھی ہے دِل میں اِک تیری…


اب کہاں اور کسی چیز کی چا رکھی ہے
دِل میں اِک تیری تمنّا جو بسا رکھی ہے
سر بکف مَیں بھی ہُوں شمشِیر بکف ہے تُو بھی
تُو نے کِس دِن پہ یہ تقریب اُٹھا رکھی ہے
دِل سُلگتا ہے تِرے سرد رویے سے مِرا
دیکھ اِس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے
آئینہ دیکھ زرا کیا مَیں غلط کہتا ہُوں
تُو نے خود سے بھی کوئ بات چُھپا رکھی ہے
جیسے تُو حکم کرے دِل مِرا ویسے دھڑکے
یہ گھڑی تیرے اِشاروں سے مِلا رکھی ہے
گوہرِ اشک سے خالی نہیں آنکھیں انورؔ
یہی پُونجی تو زمانے سے بچا رکھی ہے۔۔۔!


