منتخب غزلیں
کبھی آہ لب پہ مچل گئی کبھی اشک آنکھوں سے ڈھل گئے …
کبھی آہ لب پہ مچل گئی کبھی اشک آنکھوں سے ڈھل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے
میں خیال و خواب کی محفلیں نہ بقدرِ شوق سجا سکا
تری اِک نگاہ کے ساتھ ہی مرے سب ارادے بدل گئے
نہ تو دور ہیں نہ قریب ہیں ترے درد مند عجیب ہیں
تری یاد ہی سے تڑپ اٹھے تری یاد ہی سے بہل گئے
یہ کمالِ ہجر و وصال ہے کہ طلسمِ وہم و خیال ہے؟
کبھی صدیاں لمحوں میں اُڑ گئیں، کبھی لمحے صدیوں میں ڈھل گئے
تھا انہیں بھی میری طرح جنوں تو پھر ان میں مجھ میں یہ فرق کیوں
میں گرِفتِ غم سے نہ بچ سکا وہ حدودِ غم سے نکل گئے
غمِ دِل کا شکوہ فضول ہے یہی اِس جہاں کا اصول ہے
کہ جہاں چراغِ طرب جلے وہیں رخ ہوا کے بدل گئے
ہے ملال کاملِ غمزدہ کہ روش روش ہے ستم زدہ
جنہیں ہم نے اپنا لہو دیا وہ چمن بہار میں جل گئے
(رشید کامل)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


