YaadeiNیادیں صدمہ تو ہے مُجھے بھی کہ تُجھ سے جُد…


YaadeiNیادیں

صدمہ تو ہے مُجھے بھی کہ تُجھ سے جُدا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں

بِکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
بیکار محفلوں میں تُجھے ڈھونڈنا ہوں میں

میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں

کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں

کیا جانے کس ادا سے لیا تُو نے میرا نام
دُنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مُچ ترا ہوں میں

پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
لمبی سی اک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں

لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
دو چار سال عمر میں تُجھ سے بڑا ہوں میں

جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیل
سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں…!

✍…قتیل شفائی